Romans 6 Urdu

From Textus Receptus

Jump to: navigation, search

۱

-پس ہم کیا کہیں؟ کیا گُناہ کرتے رہیں تاکہ فضل زِیادہ ہو؟

۲

-ہرگِز نہیں۔ ہم جو گُناہ کے اِعتبار سے مَرگئے کیونکر اُس میں آیندہ کو زِندگی گُزاریں؟

۳

-کیا تُم نہیں جانتے کہ ہم جِتنوں نے مسِیح یِسُوؔع میں شامِل ہونے کا بپِتسمہ لِیا تو اُس کی مَوت میں شامِل ہونے کا بپِتسمہ لِیا؟

۴

پس مَوت میں شامِل ہونے کے بپِتسمہ کے وسِیلہ سے ہم اُس کے ساتھ دفن ہُوئے تاکہ جِس طرح مسِیح باپ کے جلال کے وسِیلہ سے مُردوں میں سے جِلایا گیا اُسی طرح ہم بھی نئی زِندگی میں چلیں

۵

-کیونکہ جب ہم اُس کی مَوت کی مُشابہت سے اُس کے ساتھ پَیوستہ ہوگئے تو بیشک اُس کے جی اُٹھنے کی مُشابہت سے بھی اُس کے ساتھ پَیوستہ ہونگے

۶

-چُنانچہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری پُرانی اِنسانِیّت اُس کے ساتھ اِس لِئے مصلُوب کی گئی کہ گُناہ کا بدن بیکار جائے تاکہ ہم آگے کو گُناہ کی غُلامی میں نہ رہیں

۷

-کیونکہ جو مُؤا وہ گُناہ سے بری ہُؤا

۸

-پس جب ہم مسِیح کے ساتھ مُوئے تو ہمیں یقِین ہے کہ اُس کے ساتھ جِئیں گے بھی

۹

-کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ مسِیح جب مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے تو پھِر نہیں مَرنے کا مَوت کا پھِر اُس پر اِختیار نہیں ہونے کا

۱۰

-کیونکہ مسِیح جو مُؤا گُناہ کے اِعتبار سے ایک بار مُؤا مگر اب جو جِیتا ہے تو خُدا کے اِعتبار سے جِیتا ہے

۱۱

-اِسی طرح تُم بھی اپنے آپ کو گُناہ کے اِعتبار سے مُردہ مگر خُدا کے اِعتبار سے خُداوند مسِیح یِسُوؔع میں زِندہ سمجھو

۱۲

-پس گُناہ تُمہارے فانی بدن میں بادشاہی نہ کرے کہ تُم اُس کی خواہِشوں کے تابِع رہو

۱۳

اور اپنے اعضا ناراستی کے ہتھیار ہونے کے لِئے گُناہ کے حوالہ نہ کِیا کرو بلکہ اپنے آپ کو مُردوں میں سے زِندہ جان کر خُدا کے حوالہ کرو اور اپنے اعضا راستبازی کے ہتھیار ہونے کے لِئے خُدا کے حوالہ کرو

۱۴

-اِس لِئے کہ گُناہ کا تُم پر اِختیار نہ ہوگا کیونکہ تُم شرِیعت کے ماتحت نہیں بلکہ فضل کے ماتحت ہو

۱۵

-پس کیا ہُؤا؟ کیا ہم اِس لِئے گُناہ کریں کہ شرِیعت کے ماتحت نہیں بلکہ فضل کے ماتحت ہیں؟ ہرگِز نہیں

۱۶

کیا تُم نہیں جانتے کہ جِسکی فرمانبرداری کے لِئے اپنے آپ کو غُلاموں کی طرح حوالہ کر دیتے ہو اُسی کے غُلام ہو جِس کے فرمانبردار ہو خواہ گُناہ کے جِس کا انجام مَوت ہے خواہ فرمانبرداری کے جِس کا انجام راستبازی ہے

۱۷

-لیکن خُدا کا شُکر ہے کہ اگرچہ تُم گُناہ کے غُلام تھے تُو بھی دِل سے اُس تعلِیم کے فرمانبردار ہوگئے جِس کے سانچے میں تُم ڈھالے گئے تھے

۱۸

-اور گُناہ سے آزاد ہوکر راستبازی کے غُلام ہوگئے

۱۹

مَیں تُمہاری اِنسانی کمزوری کے سبب سے اِنسانی طَور پر کہتا ہُوں۔ جِس طرح تُم نے اپنے اعضا بدکاری کرنے کے لِئے ناپاکی اور بدکاری کی غُلامی کے حوالہ کِئے تھے اُسی طرح اب اپنے اعضا پاک ہونے کے لِئے راستبازی کی غُلامی کے حوالہ کردو

۲۰

-کیونکہ جب تُم گُناہ کے غُلام تھے تو راستبازی کے اِعتبار سے آزاد تھے

۲۱

-پس جِن باتوں سے تُم اب شرمِندہ ہو اُن سے تُم اُس وقت کیا پَھل پاتے تھے؟ کیونکہ اُن کا انجام تو مَوت ہے

۲۲

-مگر اب گُناہ سے آزاد اور خُدا کے غُلام ہوکر تُم کو اپنا پَھل مِلا جِس سے پاکیِزگی حاصِل ہوتی ہے اور اِس کا انجام ہمیشہ کی زِندگی ہے

۲۳

-کیونکہ گُناہ کی مزدوُری مَوت ہے مگر خُدا کی بخشِش ہمارے خُداوند مسِیح یِسُوؔع میں ہمیشہ کی زِندگی ہے

Personal tools