John 8 Urdu

From Textus Receptus

Jump to: navigation, search

۱

-تب یِسُوؔع زَیتؔون کے پہاڑ کو گیا

۲

-صُبح سویرے ہی وہ پِھر ہَیکل میں آیا اور سب لوگ اُس کے پاس آئے اور وہ بَیٹھ کر اُنہیں تعلِیم دینے لگا

۳

-تب فقیِہہ اور فریسی ایک عَورت کو لائے جو زِنا میں پکڑی گئی تھی اور اُسے بِیچ میں کھڑا کر کے یِسُوؔع سے کہا

۴

-اَے اُستاد !یہ عَورت زِنا میں عین فعل کے وقت پکڑی گئی ہے

۵

-تَورَیت میں مُوسؔیٰ نے ہم کو حُکم دِیا ہے کہ اَیسی عَورتوں کو سنگسار کریں-پس تُو اِس عَورت کی نِسبت کیا کہتا ہے؟

۶

-اُنہوں نے اُسے آزمانے کے لِئے یہ کہا تاکہ اُس پر اِلزام لگانے کا کوئی سبب نِکالیں مگر یِسُوؔع جُھک کر اُنگلی سے زمِین پر لِکھنے لگا

۷

-جب وہ اُس سے سوال کرتے ہی رہے تو اُس نے سِیدھے ہو کر اُن سے کہا کہ جو تُم میں بیگنُاہ ہو وُہی پہلے اُس کے پتّھر مارے

۸

-اور پِھر جُھک کر زمِین پر اُنگلی سے لِکھنے لگا

۹

اور وہ یہ سُنکر دل ہی دل میں اپنے آپ کو گنہگار جان کے بڑوں سے لے کر چھوٹوں تک ایک ایک کر کے نِکل گئے اور یِسُوؔع اکیلا رہ گیا اور عَورت وہیں بِیچ میں رہ گئی

۱۰

-تب یِسُوؔع نے سِیدھے ہو کر عَورت کے سَوا کیسی کو نہ دیکھا، اور اُس سے کہاں اَے عَورت یہ لوگ کہاں گئے؟کیا کِسی نے تُجھ پر حُکم نہیں لگایا؟

۱۱

-اُس نے کہا اَے خُداوند کِسی نے نہیں-یِسُوؔع نے کہا مَیں بھی تُجھ پر حُکم نہیں لگاتا-جا-پِھر گنُاہ نہ کرنا

۱۲

-تب یِسُوؔع نے پِھر اُن سے مُخاطِب ہو کر کہا دُنیا کا نُور مَیں ہُوں-جو میری پَیروی کرے گا وہ اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زِندگی کا نُور پائے گا

۱۳

-تب فریسیوں نے اُس سے کہا تُواپنی گواہی آپ دیتا ہے-تیری گواہی سچّی نہیں

۱۴

یِسُوؔع نے جواب میں اُن سے کہا اگر چہ مَیں اپنی گواہی آپ دیتا ہُوں تُو بھی میری گواہی سچّی ہے کیونکہ مُجھے معلُوم ہے کہ مَیں کہاں سے آیا ہُوں اور کہاں کو جاتا ہُوں- لیکن تُم کو معلُوم نہیں کہ میں کہاں سے آتا ہُوں یا کہاں کو جاتا ہُوں

۱۵

-تُم جِسم کے مُطابِق فَیصلہ کرتے ہو-مَیں کسی کا فَیصلہ نہیں کرتا

۱۶

-اور اگر مَیں فَیصلہ کرُوں بھی تُو میرا فَیصلہ سچّا ہے کیونکہ مَیں اکیلا نہیں بلکہ مَیں ہُوں اور باپ ہے جِس نے مُجھے بھیجا ہے

۱۷

-اور تُمہاری تَورَیت میں بھی لِکھا ہے کہ دو آدمِیوں کی گواہی مِلکر سچّی ہوتی ہے

۱۸

-ایک تُو مَیں خُود اپنی گواہی دیتا ہُوں اور ایک باپ جِس نے مُجھے بھیجا میری گواہی دیتا ہے

۱۹

-تب اُنہوں نے اُس سے کہا تیرا باپ کہاں ہے؟یِسُوؔع نے جواب دِیا نہ تُم مُجھے جانتے ہو نہ میرے باپ کو-اگر مُجھے جانتے تو میرے باپ کو بھی جانتے

۲۰

-یِسُوؔع نے ہَیکل میں تعلِیم دیتے وقت یہ باتیں بیت المال میں کہِیں اور کِسی نے اُس کو نہ پکڑا کیونکہ ابھی تک اُس کا وقت نہ آیا تھا

۲۱ -تب یِسُوؔع نے اُن سے کہا مَیں جاتا ہُوں اور تُم مُجھے ڈُھونڈو گے اور اپنے گُناہ میں مَروگے-جہاں مَیں جاتا ہُوں تُم نہیں آسکتے

۲۲

-تب یہُودِیوں نے کہا کیا وہ اپنے آپ کو مار ڈالے گا جو کہتا ہے جہاں مَیں جاتا ہُوں تُم نہیں آسکتے؟

۲۳

-اُس نے اُن سے کہا تُم نِیچے کے ہو-مَیں اُوپر کا ہُوں-تُم دُنیا کے ہو-مَیں دُنیا کا نہیں ہُوں

۲۴

-اِس لِئے مَیں نے تُم سے یہ کہا کہ اپنے گُناہوں میں مَروگے کیونکہ اگر تُم اِیمان نہ لاؤگے کہ مَیں وُہی ہُوں تو اپنے گُناہوں میں مَروگے

۲۵

-تب اُنہوں نے اُس سے کہا تُو کَون ہے؟یِسُوؔع نے اُن سے کہا وُہی ہُوں جو شُروع سے تُم سے کہتا آیا ہُوں

۲۶

-مُجھے تُمہاری نِسبت بُہت کُچھ کہنا اور فَیصلہ کرنا ہے لیکن جِس نے مُجھے بھیجا وہ سچّا ہے اور جو مَیں نے اُس سے سُنا وُہی دُنیا سے کہتا ہُوں

۲۷

-وہ نہ سمجھے کہ وہ اُن سے باپ کی نِسبت کہتا ہے

۲۸

پس یِسُوؔع نے کہا کہ جب تُم اِبنِ آدم کو اُونچے پر چڑھاوگے تو جانو گے کہ مَیں وُہی ہُوں اور اپنی طرف سے کُچھ نہیں کرتا بلکہ جِس طرح میرے باپ نے مُجھے سِکھایا اُسی طرح یہ باتیں کہتا ہُوں

۲۹

-اور جِس نے مُجھے بھیجا وہ میرے ساتھ ہے-اُس نے مُجھے اکیلا نہیں چھوڑا کیونکہ مَیں ہمیشہ وُہی کام کرتا ہُوں جو اُسے پسند آتے ہیں

۳۰

-جب وہ یہ باتیں کہہ رہا تھا تو بہُتیرے اُس پر اِیمان لائے

۳۱

-تب یِسُوؔع نے اُن یہُودِیوں سے کہا جِنہوں نے اُس کا یقِین کِیا تھا کہ اگر تُم میرے کلام پر قائِم رہوگے تو حقِیقت میں میرے شاگِرد ٹھہروگے

۳۲

-اور سچّائی سے واقِف ہوگے اور سچّائی تُم کو آزاد کرے گی

۳۳

-اُنہوں نے اُسے جواب دِیا ہم تو ابرؔہام کی نسل سے ہیں اور کبھی کِسی کی غُلامی میں نہیں رہے-تُو کیونکر کہتا ہے کہ تُم آزاد کِئے جاؤگے؟

۳۴

-یِسُوؔع نے اُنہیں جواب دِیا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو کوئی گُناہ کرتا ہے گُناہ کا غُلام ہے

۳۵

-اور غُلام ابد تک گھر میں نہیں رہتا بیٹا ابد تک رہتا ہے

۳۶

-پس اگر بیٹا تُمہیں آزاد کرے گا تو تُم واقِعی آزاد ہوگے

۳۷

-مَیں جانتا ہُوں کہ تُم ابرؔہام کی نسل سے ہو تُو بھی میرے قتل کی کوشِش میں ہو کیونکہ میرا کلام تُمہارے دِل میں جگہ نہیں پاتا

۳۸

-مَیں نے حو اپنے باپ کے ہاں دیکھا ہے وہ کہتا ہُوں اور تُم نے جو اپنے باپ سے سُنا ہے وہ کرتے ہو

۳۹

-اُنہوں نے جواب میں اُس سے کہا ہمارا باپ تو ابرؔہام ہے-یِسُوؔع نے اُن سے کہا اگر تُم ابرؔہام کے فرزند ہوتے تو ابرؔہام کے سے کام کرتے

۴۰

-لیکن اب تُم مُجھ جَیسے شخص کے قتل کی کوشِش میں ہو جِس نے تُم کو وُہی حق بات بتائی جو خُدا سے سُنی-ابرؔہام نے تو یہ نہیں کِیا تھا

۴۱

-تُم اپنے باپ کے سے کام کرتے ہو-تب اُنہوں نے اُس سے کہا- ہم حرام سے پیَدا نہیں ہُوئے-ہمارا ایک باپ ہے یعنی خُدا

۴۲

یِسُوؔع نے اُن سے کہا اگر خُدا تُمہارا باپ ہوتا تو تُم مُجھ سے مُحبّت رکھتے اِس لِئے کہ مَیں خُدا میں سے نِکلا اور آیا ہُوں کیونکہ مَیں آپ سے نہیں آیا بلکہ اُسی نے مُجھے بھیجا

۴۳

-تُم میری باتیں کیوں نہیں سمجھتے؟اِس لِئے کہ میرا کلام سُن نہیں سکتے

۴۴

تُم اپنے باپ اِبلِیس سے ہو اور اپنے باپ کی خواہِشوں کو پُورا کرنا چاہتے ہو-وہ شُروع ہی سے خُونی ہے اور سچّائی پر قائِم نہیں رہا کیونکہ اُس میں سچّائی ہے نہیں-جب وہ جُھوٹ بولتا ہے تو اپنی ہی سی کہتا ہے کیونکہ وہ جُھوٹا ہے بلکہ جُھوٹ کا باپ ہے

۴۵

-لیکن مَیں جو سچ بولتا ہُوں اِسی لِئے تُم میرا یقِین نہیں کرتے

۴۶

-تُم میں کَون مُجھ پر گُناہ ثابِت کرتا ہے؟اگر مَیں سچ بولتا ہُوں تو میرا یقِین کیوں نہیں کرتے؟

۴۷

-جو خُدا سے ہوتا ہے وہ خُدا کی باتیں سُنتا ہے-تُم اِس لِئے نہیں سُنتے کہ خُدا سے نہیں ہو

۴۸

-تب یہُودِیوں نے جواب میں اُس سے کہا کیا ہم خُوب نہیں کہتے کہ تُو سامری ہے اور تُجھ میں بد رُوح ہے؟

۴۹

-یِسُوؔع نے جواب دِیا کہ مُجھ میں بد رُوح نہیں مگر مَیں اپنے باپ کی عِزّت کرتا ہُوں اور تُم میری بے عِزّتی کرتے ہو

۵۰

-لیکن مَیں اپنی بُزُرگی نہیں چاہتا-ہاں-ایک ہے جو اُسے چاہتا اور فَیصلہ کرتا ہے

۵۱

-مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اگر کوئی شخص میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابد تک کبھی مَوت کو نہ دیکھیگا

۵۲

تب یہُودِیوں نے اُس سے کہا کہ اب ہم نے جان لِیا کہ تُجھ میں بد رُوح ہے ابرؔہام مَرگیا اور نبی مَرگئے مگر تُو کہتا ہے کہ اگر کوئی میرے کلام پر عمل کرے گا تو ابد تک کبھی مَوت کا مزہ نہ چکھّیگا

۵۳

-ہمارا باپ ابرؔہام جو مَرگیا کیا تُو اُس سے بڑا ہے؟اور نبی بھی مَرگئے-تُو اپنے آپ کو کیا ٹھہراتا ہے؟

۵۴

-یِسُوؔع نے جواب دِیا اگر مَیں آپ اپنی بڑائی کرُوں تو میری بڑائی کُچھ نہیں لیکن میری بڑائی میرا باپ کرتا ہے جِسے تُم کہتے ہو کہ ہمارا خُدا ہے

۵۵

-تُم نے اُسے نہیں جانا لیکن مَیں اُسے جانتا ہُوں اور اگر کہُوں کہ اُسے نہیں جانتا تُو تُمہاری طرح جُھوٹا بنوُنگا مگر مَیں اُسے جانتا اور اُس کے کلام پر عمل کرتا ہُوں

۵۶

-تُمہارا باپ ابرؔہام میرا دِن دیکھنے کی اُمّید پر بُہت خُوش تھا چُنانچہ اُس نے دیکھا اور خُوش ہُؤا

۵۷

-تب یہُودِیوں نے اُس سے کہا تیری عُمر تو ابھی پچاس برس کی نہیں پھِر کیا تُو نے ابرؔہام کو دیکھا ہے؟

۵۸

-یِسُوؔع نے اُن سے کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ پیشتر اُس سے کہ ابرؔہام پَیدا ہُؤا مَیں ہُوں

۵۹

-تب اُنہوں نے اُسے مارنے کو پتّھر اُٹھائے کہ اُسے مارے مگر یِسُوؔع چھِپ کر اُن کے بِیچ سے گذر کر ہَیکل سے نِکلا اور یوں چلا گیا

Personal tools