John 20 Urdu

From Textus Receptus

Jump to: navigation, search

۱

-ہفتہ کے پہلے دِن مریؔم مگدلِینی اَیسے تڑکے کہ ابھی اندھیرا ہی تھا قبر پر آئی اور پتّھر کو قبر سے ہٹا ہُؤا دیکھا

۲

تب وہ شمؔعُون پطرس اور اُس دُوسرے شاگِرد کے پاس جِسے یِسُوؔع عزیز رکھتا تھا دَوڑی ہُوئی گئی اور اُن سے کہا کہ خُداوند کو قبر سے نِکال لے گئے اور ہمیں معلُوم نہیں کہ اُسے کہاں رکھ دِیا

۳

-پس پطؔرس اور وہ دُوسرا شاگِرد نِکل کر قبر کی طرف چلے

۴

-اور دونوں ساتھ ساتھ دَوڑے مگر وہ دُوسرا شاگِرد پطؔرس سے آگے بڑھ کر قبر پر پہلے پُہنچا

۵

-اُس نے جُھک کر نظر کی اور سُوتی کپڑے پڑے ہُوئے دیکھے مگر اندر نہ گیا

۶

-شمؔعُون پطرس اُس کے پِیچھے پِیچھے پُہنچا اور اُس نے قبر کے اندر جاکر دیکھا کہ سُوتی کپڑے پڑے ہیں

۷

-اور وہ رُومال جو اُس کے سر سے بندھا ہُؤا تھا سُوتی کپڑوں کے ساتھ نہیں بلکہ لِپٹا ہُؤا ایک جگہ الگ پڑا ہے

۸

-اِس پر دُوسرا شاگِرد بھی جو پہلے قبر پر آیا تھا اندر گیا اور اُس نے دیکھ کر یقیِن کِیا

۹

-کیونکہ وہ اب تک اُس نوِشتہ کو نہ جانتے تھے جِس کے مُطابِق اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا ضُرور تھا

۱۰

-تب یہ شاگِرد اپنے گھر کو واپس گئے

۱۱

-لیکن مریؔم باہر قبر کے پاس کھڑی روتی رہی اور جب روتے روتے قبر کی طرف جُھک کر اندر نظر کی

۱۲

-تو دو فرِشتوں کو سفید پوشاک پہنے ہُوئے ایک کو سرہانے اور دُوسرے کو پَینتا نے بَیٹھے دیکھا جہاں یِسُوؔع کی لاش پڑی تھی

۱۳

-اُنہوں نے اُس سے کہا اَے عَورت تُو کیوں روتی ہے؟اُس نے اُن سے کہا اِس لِئے کہ میرے خُداوند کو اُٹھالے گئے ہیں اور معلُوم نہیں کہ اُسے کہاں رکھّا ہے

۱۴

-یہ کہہ کر وہ پِیچھے پھِری اور یِسُوؔع کو کھڑے دیکھا اور نہ پہچانا کہ یہ یِسُوؔع ہے

۱۵

یِسُوؔع نے اُس سے کہا اَے عَورت تُو کیوں روتی ہے؟کِس کو ڈُهونڈتی ہے؟اُس نے باغبان سمجھ کر اُس سے کہا مِیاں اگر تُو نے اُس کو یہاں سے اُٹھایا ہو تو مُجھے بتادے کہ اُسے کہاں رکھّا ہے تاکہ مَیں اُسے لے جاؤں

۱۶

-!یِسُوؔع نے اُس سے کہا مریؔم!اُس نے مُڑ کر اُس سے عِبرانی زُبان میں کہا ربُونی!یعنی اَے اُستاد

۱۷

یِسُوؔع نے اُس سے کہا مُجھے نہ چُھو کیونکہ مَیں اب تک باپ کے پاس اُوپر نہیں گیا لیکن میرے بھائیوں کے پاس جاکر اُن سے کہہ کہ مَیں اپنے باپ اور تُمہارے باپ اور اپنے خُدا اور تُمہارے خُدا کے پاس اُوپر جاتا ہُوں

۱۸

-مریؔم مگدلِینی نے آکر شاگِردوں کو خبردی مَیں نے خُداوند کو دیکھا اور اُس نے مُجھ سے یہ باتیں کہِیں

۱۹

پھِر اُسی دِن جو ہفتہ کا پہلا دِن تھا شام کے وقت جب وہاں کے دروازے جہاں شاگِرد جمع تھے یہُودِیوں کے ڈر سے بند تھے یِسُوؔع آکر بِیچ میں کھڑا ہُؤا اور اُن سے کہا تُمہاری سلامتی ہو

۲۰

-اور یہ کہہ کر اُس نے اپنے ہاتھوں اور پسلی کو اُنہیں دِکھایا-پس شاگِرد خُداوند کو دیکھ کر خُوش ہُوئے

۲۱

-یِسُوؔع نے پھِر اُن سے کہا تُمہاری سلامتی ہو!جِس طرح باپ نے مُجھے بھیجا ہے اُسی طرح مَیں بھی تُمہیں بھیجتا ہُوں

۲۲

-اور یہ کہہ کر اُن پر پُھونکا اور اُن سے کہا رُوح القُدّس لو

۲۳

-جِنکے گُناہ تُم بخشو اُن کے بخشے گئے ہیں-جِنکے گُناہ تُم قائِم رکھّو اُن کے قائِم رکھّے گئے ہیں

۲۴

-مگر اُن بارہ میں سے ایک شخص یعنی تومؔا جِسے تواَؔم کہتے ہیں یِسُوؔع کے آنے کے وقت اُن کے ساتھ نہ تھا

۲۵

پس باقی شاگِرد اُس سے کہنے لگے ہم نے خُداوند کو دیکھا ہے مگر اُس نے اُن سے کہا جب تک مَیں اُس کے ہاتھوں میں میخوں کے سُوراخ نہ دیکھ لُوں اور میخوں کے سُوراخوں میں اپنی اُنگلی نہ ڈال لُوں اور اپنا پاتھ اُس کی پسلی میں نہ ڈال لُوں ہرگز یقِین نہ کرُوں گا

۲۶

-آٹھ روز کے بعد جب اُس کے شاگِرد پھِر اندر تھے اور تومؔا اُن کے ساتھ تھا اور دروازے بند تھے یِسُوؔع نے آکر اور بِیچ میں کھڑا ہوکر کہا تُمہاری سلامتی ہو

۲۷

-پھِر اُس نے تومؔا سے کہا اپنی اُنگلی پاس لاکر میرے ہاتھوں کو دیکھ اور اپنا ہاتھ پاس لاکر میری پسلی میں ڈال اور بے اِعتقاد نہ ہو بلکہ اِعتقاد رکھ

۲۸

-!تومؔا نے جواب میں اُس سے کہا اَے میرے خُداوند!اَے میرے خُدا

۲۹

-یِسُوؔع نے اُس سے کہا تومؔا تُو تو مُجھے دیکھ کر اِیمان لایا ہے-مُبارک وہ ہیں جو بغَیر دیکھے اِیمان لائے

۳۰

-اور یِسُوؔع نے اَور بُہت سے مُعجِزے شاگِردوں کے سامنے دِکھائے جو اِس کِتاب میں لِکھے نہیں گئے

۳۱

-لیکن یہ اِس لِئے لِکھے گئے کہ تُم اِیمان لاؤ کہ یِسُوؔع ہی خُدا کا بیٹا مسِیح ہے اور اِیمان لاکر اُس کے نام سے زِندگی پاؤ

Personal tools