Acts 18 Urdu

From Textus Receptus

Jump to: navigation, search

۱

-اِن باتوں کے بعد پَولُسؔ اتھینؔے سے روانہ ہوکرکُرِنتھُؔس میں آیا

۲

اور وہاں اُس کو اَکوِؔلہ نام ایک یہُودی مِلا جو پُنطُسؔ کی پَیدایش تھا اور اپنی بیوی پرسِؔکلّہ سمیت اطالِؔیہ سے نیا نیا آیا تھا کیونکہ کلَودِیُسؔ نے حُکم دِیا تھا کہ سب یہُودی روؔمہ سے نِکل جائیں۔ پس وہ اُن کے پاس گیا

۳

-اور چُونکہ اُن کا ہم پیشہ تھا اُن کے ساتھ رہا اور وہ کام کرنے لگے اور اُن کا پیشہ خَیمہ دوزی تھا

۴

-اور وہ ہر سبت کو عِبادت خانہ میں بحث کرتا اور یہُودِیوں اور یُونانیوں کو قائِل کرتا تھا

۵

-اور جب سِیلاؔس اور تمُِتھُؔیس مَکِدُؔنیہ سے آئے تو پَولُسؔ کلام سُنانے کے جوش سے مجبُور ہوکر یہُودِیوں کے آگے گواہی دے رہا تھا کہ یِسُوؔع ہی مسِیح ہے

۶

جب لوگ مُخالفت کرنے اور کُفر بکنے لگے تو اُس نے اپنے کپڑے جھاڑ کر اُن سے کہا تُمہارا خُون تُمہاری ہی گردن پر۔ مَیں پاک ہُوں۔ اب سے غَیر قَوموں کے پاس جاؤں گا

۷

-پس وہاں سے چلاگیا اور طِطُسؔ یوستُیسؔ نام ایک خُدا پرست کے گھر گیا جو عِبادت خانہ سے مِلا ہُؤا تھا

۸

-اور عِبادت خانہ کا سردار کرِسپُؔس اپنے تمام گھرانے سمیت خُداوند پر اِیمان لایا اور بُہت سے کُرِنتھی سُنکر اِیمان لائے اور بپِتسمہ لِیا

۹

-تب خُداوند نے رات کو رویا میں پَولُسؔ سے کہا خَوف نہ کر بلکہ کہے جا اور چُپ نہ رہ

۱۰

-اِس لِئے کہ مَیں تیرے ساتھ ہُوں اور کوئی شخص تُجھ پر حملہ کرکے ضرر نہ پُہنچا سکیگا کیونکہ اِس شہر میں میرے بُہت سے لوگ ہیں

۱۱

-پس وہ ڈیڑھ برس اُن میں رہ کر خُدا کا کلام سِکھاتا رہا

۱۲

-جب گلؔیّواخؔیہ کا صُوبہ دار تھا یہُودی ایکا کرکے پَولُسؔ پر چڑھ آئے اور اُسے عدالت میں لے جاکر

۱۳

-کہنے لگے کہ یہ شخص لوگوں کو ترغِیب دیتا ہے کہ شرِیعت کے بر خِلاف خُدا کی پرستش کریں

۱۴

-جب پَولُسؔ نے بولنا چاہا تو گلؔیّو نے یہُودِیوں سے کہا اَے یہُودِیو! اگر کُچھ ظُلم یا بڑی شرارت کی بات ہوتی تو واجِب تھا کہ مَیں صبر کرکے تُمہاری سُنتا

۱۵

-لیکن جب یہ اَیسے سوال ہیں جو لفظوں اور ناموں اور خاص تُمہاری شرِیعت سے عِلاقہ رکھتے ہیں تو تُم ہی جانو۔ مَیں اَیسی باتوں کا مُنصِف بننا نہیں چاہتا

۱۶

-اور اُس نے اُنہیں عدالت سے نِکلوادِیا

۱۷

-تب سب لوگوں نے عِبادت خانہ کے سردار سوستھِنیؔس کو پکڑ کر عدالت کے سامنے مارا مگر گلؔیّو نے اِن باتوں کی کُچھ پروانہ کی

۱۸

پس پَولُسؔ بُہت دِن وہاں رہ کر بھائیوں سے رُخصت ہُؤا اور چُونکہ اُس نے مَنّت مانی تھی۔ اِس لِئے کِنخؔرییہ میں سر مُنڈایا اور جہاز پر سُورؔیہ کو روانہ ہُؤا اور پرِسِؔکلّہ اور اَکوِؔلہ اُس کے ساتھ تھے

۱۹

-اور اِفِسُسؔ میں پُہنچکر اُس نے اُنہیں وہاں چھوڑا اور آپ عِبادت خانہ میں جاکر یہُودِیوں سے بحث کرنے لگا

۲۰

-جب اُنہوں نے اُس سے درخواست کی کہ اَور کُچھ عرصہ ہمارے ساتھ رہ تو اُس نے منظُور نہ کِیا

۲۱

بلکہ یہ کہہ کر اُن سے رُخصت ہُؤا کہ ہر حال میں مُجھے ضرور ہے کہ یرُوشلؔیم میں عید مناؤ، اگر خدا نے چاہا تو تُمہارے پاس پھِر آؤں گا اِفِسُسؔ سے جہاز پر روانہ ہُؤا

۲۲

-پھِر قَیصؔریہ میں اُترکر یرُوشلؔیم کو گیا اور کلیِسیا کو سلام کرکے انطؔاکیہ میں آیا

۲۳

-اور چند روز رہ کر وہاں سے روانہ ہُؤا اور ترتیب وار گلِتیؔہ کے عِلاقہ اور فُروؔگیہ سے گُزرتا ہُؤا سب شاگِردوں کو مضبُوط کرتا گیا

۲۴

-پھِر اُپلّوسؔ نام ایک یہُودی اِسکندرِؔیہ کی پَیدایش خُوش تقرِیر اور کِتابِ مُقدّس کا ماہِر اِفِسُسؔ میں پُہنچا

۲۵

اِس شخص نے خُداوند کی راہ کی تعلِیم پائی تھی اور رُوحانی جوش سے کلام کرتا اور یِسُوؔع کی بابت صحیِح صحیِح تعلِیم دیتا تھا مگر صِرف یُوحنّؔا ہی کے بپِتسمہ سے واقف تھا

۲۶

-وہ عِبادت خانہ میں دِلیری سے بولنے لگا مگر پِرسؔکِلّہ اور اَکؔوِلہ اُس کی باتیں سُنکر اُسے اپنے گھر لے گئے اور اُس کو خُدا کی راہ اَور زِیادہ صِحت سے بتائی

۲۷

جب اُس نے اِرادہ کِیا کہ پار اُترکر اَخیؔہ کو جائے تو بھائیوں نے اُس کی ہِمت بڑھا کر شاگِردوں کو لِکھا کہ اُس سے اچھّی طرح مِلنا۔ اُس نے وہاں پُہنچکر اُن لوگوں کی بڑی مدد کی جو فضل کے سبب سے اِیمان لائے تھے

۲۸

-کیونکہ وہ کِتابِ مُقدّس سے یِسُوؔع کا مسِیح ہونا ثابِت کرکے بڑے زور شور سے یہُودِیوں کو علانِیہ قائِل کرتا رہا

Personal tools