Mark 13 Urdu

From Textus Receptus

Jump to: navigation, search

۱

-!جب وہ ہَیکل سے باہر جارہا تھا تو اُس کے شاگِردوں میں سے ایک نے اُس سے کہا اَے اُستاد-دیکھ یہ کَیسے کَیسے پتّھراور کَیسی کَیسی عِمارتیں ہیں

۲

-یِسُوؔع نے اُس کہا تُو اِن بڑی بڑی عِمارتوں کودیکھتا ہے؟یہاں کِسی پتّھر پر پتّھر باقی نہ رہے گا جو گِرایا نہ جائے

۳

-جب وہ زَیتُوؔن کے پہاڑ پر ہَیکل کے سامنے بَیٹھا تھا تو پطؔرس اور یعقُؔوب اور یُوحؔنّا اور اندرؔیاس نے تنہائی میں اُس سے پُوچھا

۴

-ہمیں بتاکہ یہ باتیں کب ہونگی؟اور جب یہ سب باتیں پُوری ہونے کو ہوں اُس وقت کا کیا نِشان ہے؟

۵

-یِسُوؔع نے اُن سے کہنا شُروع کِیا کہ خبردار کوئی تُمکو گُمراہ نہ کردے

۶

-بہتیرے میرے نام سے آئیں گے اور کہیں گے کہ وہ مَیں ہی ہُوں اور بُہت سے لوگوں کو گُمراہ کریں گے

۷

-اور جب تُم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہیں سُنوتو گھبرا نہ جانا-اِن کا واقع ہونا ضُرور ہے لیکن اُس وقت خاتمہ نہ ہوگا

۸

-کیونکہ قَوم پر قَوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کرے گی-جگہ جگہ بَھونچال آئیں گے اور کال پڑیں گے اور مشکلات ہو گی- یہ باتیں مُصِیبتوں کا شُروع ہی ہونگی

۹

لیکن تُم خبردار رہو کیونکہ لوگ تُمکو عدالتوں کے حوالہ کریں گے اور تُم عِبادتخانوں میں پِیٹے جاؤگے اور حاکِموں اور بادشاہوں کے سامنے میری خاطِر حاضِر کِئے جاؤ گے تاکہ اُن کے لِئے گواہی ہو

۱۰

-اور ضُرور ہے کہ پہلے سب قَوموں میں اِنجِیل کی مُنادی کی جائے

۱۱

لیکن جب تُمہیں لیجاکر حوالہ کریں تو پہلے سے فِکر نہ کرنا اور نہ سوچو کہ ہم کیا کہیں بلکہ جو کُچھ اُس گھٹری تُمہیں بتایا جائے وُہی کہنا کیونکہ کہنے والے تُم نہیں ہو بلکہ رُوحُ القُدس ہے


۱۲

-اور بھائی کو بھائی اور بیٹے کو باپ قتل کے لِئے حوالہ کرے گا اور بیٹے ماں باپ کے برخِلاف کھٹرے ہوکر اُنہیں مَروا ڈالیں گے

۱۳

-اور میرے نام کے سبب سے سب لوگ تُم سے عداوت رکھّیں گے مگر جو آخِرتک برداشت کرے گا وہ نجات پایئگا

۱۴

پس جب تُم اُس اُجاڑنے والی مکرُوہ چِیز کو جس کا زِکر دانیؔ ایل نبی نے کیا، اُس جگہ کھٹری ہُوئی دیکھو جہاں اُس کا کھٹرا ہونا روانہیں(پڑھنے والا سمجھ لے)اُس وقت جو یہُودؔیہ میں ہوں وہ پہاڑوں پر بھاگ جائیں

۱۵

-اور وہ جو کوٹھے پرہو وہ اپنے گھر سے کُچھ لینے کو نہ نیِچے اُترے نہ اندر جائے

۱۶

-اور جو کھیت میں ہو وہ اپنا کپڑا لینے کو پِیچھےنہ لَوٹے

۱۷

-!اور اُن پر افسوس جو اُن دِنوں میں حامِلہ ہوں اور جو دُودھ پِلاتی ہوں

۱۸

-اور دُعا کرو کہ یہ جاڑوں میں نہ ہو

۱۹

-کیونکہ وہ دِن اَیسی مُصِیبت کے ہونگے کہ خِلقت کے شُروع سے جِسے خُدا نے خلق کِیا نہ اب تک ہُوئی ہے نہ کبھی ہوگی

۲۰

-اور اگر خُداوند اُن دِنوں کو نہ گھٹاتا تو کوئی بشر نہ بچتا مگر اُن برگُزیدوں کی خاطِر جِنکو اُس نے چُنا ہے اُن دِنوں کو گھٹایا

۲۱

-اور اُس وقت اگر کوئی تُم سے کہے کہ دیکھو مسِیح یہاں یا دیکھو وہاں ہے تو یقِین نہ کرنا

۲۲

-کیونکہ جُھوٹے مسِیح اور جُھوٹے نبی اُٹھ کھڑے ہونگے اور نِشان اور عجیب کام دِکھائیں گے تاکہ اگر ممکن ہوتو برگُزیدوں کو بھی گُمراہ کردیں

۲۳

-لیکن تُم خبردار رہو-دیکھو مَیں نے تُم سے سب کُچھ پہلے ہی کہہ دِیا ہے

۲۴

-مگر اُن دِنوں میں اُس مُصِیبت کے بعد سُورج تارِیک ہوجائے گا اور چاند اپنی رَوشنی نہ دے گا

۲۵

-اور آسمان سے سِتارے گِرنے لگیں گے اور جو قُوّتیں آسمان میں ہیں وہ ہلائی جائیں گی

۲۶

-اور اُس وقت لوگ اِبنِ آدم کو بڑی قُدرت اور جلال کے ساتھ بادلوں میں آتے دیکھیں گے

۲۷

-اور اُس وقت وہ اپنے فرشتوں کو بھیج کر اپنے برگُزیدوں کو زمِین کی اِنتہا سے آسمان کی اِنتہا تک چاروں طرف سے جمع کرے گا

۲۸

-اب انجِیر کے درخت سے ایک تمثِیل سِیکھو-جُونہی اُس کی ڈالی نرم ہوتی اور پتےّ نِکلتے ہیں تُم جان لیتے ہوکہ گرمی نزدِیک ہے

۲۹

-اِسی طرح جب تُم اِن باتوں کو ہوتے دیکھو تو جان لوکہ وہ نزدِیک بلکہ دروازہ پر ہے

۳۰

-مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک یہ سب باتیں نہ ہولیں یہ نسل ہرگِز تمام نہ ہوگی

۳۱

-آسمان اور زمِین ٹل جائیں گے لیکن میری باتیں نہ ٹلیں گی

۳۲

-لیکن اُس دِن یا اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا- نہ آسمان پر فرشتے نہ بیٹا مگر باپ

۳۳

-خبردار!جاگتے اور دُعا کرتے رہو کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ وہ وقت کب آئے گا

۳۴

یہ اُس آدمی کا سا حال ہے جو پردیس گیا اور اُس نے گھرسے رُخصت ہوتے وقت اپنے نوکروں کو اِختیار دِیا یعنی ہر ایک کو اُس کا کام بتادِیا اور دربان کو حُکم دِیا کہ جاگتا رہے

۳۵

-پس جاگتے رہو کیونکہ تُم نہیں جانتے کہ گھر کا مالک کب آئے گا-شام کو یا آدھی رات کو یا مُرغ کے بانگ دیتے وقت یا صُبح کو

۳۶

-اَیسا نہ ہو کہ اچانک آکر وہ تُمکو سوتے پائے

۳۷

-اور جو کُچھ مَیں تُم سے کہتا ہُوں وُہی سب سے کہتا ہُوں کہ جاگتے رہو

Personal tools