John 1 Urdu

From Textus Receptus

Jump to: navigation, search

۱

-اِبتدا میں کلام تھا اور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خُدا تھا

۲

-یہی اِبتدا میں خُدا کے ساتھ تھا

۳

-سب چِیزیں اُس کے وسِیلہ سے پَیدا ہوئیں اور جو کچُھ پَیدا ہُؤا ہے اُس میں سے کوئی چِیز بھی اُس کے بغَیر پَیدا نہیں ہوئی

۴

-اُس میں زِندگی تھی اور وہ زِندگی آدمِیوں کا نُور تھی

۵

-اور نُور تارِیکی میں چمکتا ہے اور تارِیکی نے اُسے قبُول نہ کِیا

۶

-ایک آدمی یُوحؔنّا نام آمَوجُود ہُؤا جو خُدا کی طرف سے بھیجا گیا تھا

۷

-یہ گواہی کے لئِے آیا کہ نُور کی گواہی دے تاکہ سب اُس کے وسِیلہ سے اِیمان لائیں

۸

-وہ خُود تو نُور نہ تھا مگر نُور کی گواہی دینے آیا تھا

۹

-حقیِقی نُور جو ہر ایک آدمی کو رَوشن کرتا ہے دُنیا میں آنے کو تھا

۱۰

-وہ دُنیا میں تھا اور دُنیا اُس کے وسِیلہ سے پَیدا ہُوئی اور دُنیا نے اُسے نہ پہچانا

۱۱

-وہ اپنے گھر آیا اور اُس کے اپنوں نے اُسے قبُول نہ کِیا

۱۲

-لیکن جِتنوں نے اُسے قبُول کِیا اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر اِیِمان لاتے ہیں

۱۳

-وہ نہ خُون سے نہ جِسم کی خواہِش سے نہ اِنسان کے اِرادہ سے بلکہ خُدا سے پَیدا ہُوئے

۱۴

-اور کلام مُجّسم ہُؤا اور فضل اور سّچائی سے معمُور ہوکر ہمارے درمِیان رہا اور ہم نے اُس کا اَیسا جلال دیکھا جَیسا باپ کے اِکلَوتے کا جلال

۱۵

-یُوحؔنّا نے اُس کی بابت گواہی دی اور پُکار کر کہا ہے کہ یہ وُہی ہے جِس کا مَیں نے ذِکر کِیا جو میرے بعد آتا ہے وہ مُجھ سے مُقدّم ٹھہرا کیونکہ وہ مُجھ سے پہلے تھا

۱۶

-کیونکہ اُس کی معمُوری میں سے ہم سب نے پایا یعنی فضل پر فضل

۱۷

-اِسلئِے کہ شرِیعت تُو مُوسؔیٰ کی معرفت دی گئی مگر فضل اور سّچائی یِسُوؔع مسِیح کی معرفت پُہنچی

۱۸

-خُدا کو کِسی نے کبھی نہیں دیکھا- اِکلوتا بیٹا جو باپ کی گود میں ہے اُسی نے ظاہِر کِیا

۱۹

-اور یُوحؔنّا کی گواہی یہ ہے کہ جب یہُودِیوں نے یرُوشلؔیم سے کاہِن اور لاوی یہ پُوچھنے کو اُس کے پاس بھیجے کہ تُو کَون ہے؟

۲۰

-تو اُس نے اِقرار کِیا اور اِنکار نہ کِیا بلکہ اِقرار کِیا میَں تو مسِیح نہیں ہُوں

۲۱

-اُنہوں نے اُس سے پُوچھا پھر کَون ہے؟ کیا تُو ایلؔیّاہ ہے؟ اُس نے کہا مَیں نہیں ہُوں- کیا تو وہ نبی ہے؟ اُس نے جواب دِیا کہ نہیں

۲۲

-پس اُنہوں نے اُس سے کہا پھِر تُو ہے کَون؟ تاکہ ہم اپنے بھیجنے والوں کو جواب دیں- تُو اپنے حق میں کیا کہتا ہے؟

۲۳

-اُس نے کہا مَیں جَیسا یسعؔیاہ نبی نے کہا ہے بیابان میں ایک پُکارنے والے کی آواز ہُوں کہ تُم خُداوند کی راہ کو سِیدھا کرو

۲۴

-یہ فریسیوں کی طرف سے بھیجے گئے تھے

۲۵

-اُنہوں نے اُس سے یہ سوال کِیا کہ اگر تُو نہ مسِیح ہے نہ ایلؔیّاہ نہ وہ نبی تو پھِر بپِتسمہ کیوں دیتا ہے؟

۲۶

-یُوحؔنّا نے جواب میں اُن سے کہا کہ مَیں پانی سے بپِتسمہ دیتا ہُوں تُمہارے درمِیان ایک شخص کھڑا ہے جِسے تُم نہیں جانتے

۲۷

-یہ وُہی ہے جو میرے بعد آنے والا تھا اور مُجھ سے مُقدّم تھا جِسکی جُوتی کا تسمہ میَں کھولنے کے لائِق نہیں ہوں

۲۸

-یہ باتیں یَردؔن کے پار بیت عَنّیِاؔہ میں واقِع ہُوئیِں جہاں یُوحؔنّا بپِتسمہ دیتا تھا

۲۹

-دُوسرے دِن اُس نے یِسُوؔع کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا دیکھو یہ خُدا کا بّرہ ہے جو دُنیا کا گُناہ اُٹھا لے جاتا ہے

۳۰

-یہ وُہی ہے جِسکی بابت مَیں نے کہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آتا ہے جو مُجھ سے مُقدّم ٹھہرا ہے کیونکہ وہ مُجھ سے پہلے تھا

۳۱

-اور مَیں تو اُسے پہچانتا نہ تھا مگر اِسلئِے پانی سے بپِتسمہ دیتا ہُؤا آیا کہ وہ اِسرؔائیل پر ظاہِر ہوجائے

۳۲

-اور یُوحؔنّا نے یہ گواہی دی کہ مَیں نے رُوح کو کبُوتر کی طرح آسمان سے اُترتے دیکھا ہے اور وہ اُس پر ٹھہر گیا

۳۳

اور مَیں تو اُسے پہچانتا نہ تھا مگر جِس نے مُجھے پانی سے بپِتسمہ دینے کو بھیجا اُسی نے مُجھ سے کہا کہ جِس پر تُو رُوح کو اُترتے اور ٹھہرتے دیکھے وُہی رُوحُ القدُوس سے بپِتسمہ دینے والا ہے

۳۴

-چُنانچہ مَیں نے دیکھا اور گواہی دی ہے کہ یہ خدا کا بیٹا ہے؟

۳۵

-دُوسرے دِن پھِر یُوحؔنّا اور اُس کے شاگِردوں میں سے دو شخص کھڑے تھے

۳۶

-!اُس نے یِسُوؔع پر جو جارہا تھا نِگاہ کرکے کہا دیکھو یہ خُدا کا بّرہ ہے

۳۷

-وہ دونوں شاگِرد اُس کو یہ کہتے سُن کر یِسُوؔع کے پِیچھے ہولئِے

۳۸

-یِسُوؔع نے پھِر کر اور اُنہیں پِیچھے آتے دیکھ کر اُن سے کہا تُم کیا ڈُھونڈتے ہو؟ اُنہوں نے اُس سے کہا اَے ربّی (یعنی اَے اُستاد) تُو کہاں رہتا ہے؟

۳۹

-اُس نے اُن سے کہا چلو دیکھو - پس اُنہوں نے اکر آسکے رہنے کی جگہ دیکھی اور اُس روز اُس کے ساتھ رہے اور یہ دسویں گھنٹے کے قرِیب تھا

۴۰

-اُن دونوں میں سے جو یُوحؔنّا کی بابت سُن کر یِسُوؔع کے پِیچھے ہولئِے تھے ایک شمؔعُون پطؔرس کا بھائی اندرؔیاس تھا

۴۱

-اُس نے پہلے اپنے سگے بھائی شمؔعُون سے مِلکر اُس سے کہا کہ ہم کو خرِستُسؔ یعنی مسِیح مِل گیا

۴۲

-تب وہ اُسے یِسُوؔع کے پاس لایا- یِسُوؔع نے اُس پر نگِاہ کرکے کہا کہ تُو یُونؔاہ کا بیٹا شمؔعُون ہے- تُو کیفؔا کہلائے گا جس کا ترجمہ پتّھر ہے

۴۳

-دُوسرے دِن یِسُوؔع نے گلِؔیل میں جانا چاہا اور فِلپُِّسؔ سے مِلکر کہا میرے پِیچھے ہولے

۴۴

-فِلپُِّسؔ اندرؔیاس اور پطؔرس کے شہر بیت صیؔدا کا باشِندہ تھا

۴۵

-فِلپُِّسؔ نے نتؔن ایل سے مِلکر اُس سے کہا کہ جسکا زِکر مُوسؔیٰ نے تَورَیت میں اور نبیوں نے کِیا ہے وہ ہم کو مِل گیا- وہ یُوسُؔف کا بیٹا یِسُوؔع ناصری ہے

۴۶

-نتؔن ایل نے اُس سے کہا کیا ناصؔرۃ سے کوئی اچھّی چِیز نِکل سکتی ہے؟ فِلپُِّسؔ نے کہا چلکر دیکھ لے

۴۷

-یِسُوؔع نے نتؔن ایل کو اپنی طرف آتے دیکھ کر اُس کے حق میں کہا دیکھو! یہ فی الحقِیقت اِسرائیلی ہے- اِس میں مکر نہیں

۴۸

نتؔن ایل نے اُس سے کہا تُو مُجھے کہاں سے جانتا ہے؟ یِسُوؔع نے اُس کے جواب میں کہا اِس سے پہلے کہ فِلپُِّسؔ نے تُجھے بُلایا جب تو انجِیر کے درخت کے نِیچے تھا مَیں نے تُجھے دیکھا

۴۹

-نتؔن ایل نے اُس کو جواب دِیا اَے ربّی ! تُو خُدا کا بیٹا ہے- تُو اِسرؔائیل کا بادشاہ ہے

۵۰

یِسُوؔع نے جواب میں اُس سے کہا میَں نے جو تجُھ سے کہا کہ تجُھ کو انجِیر کے درخت کہ نِیچے دیکھا کیا تُو اِسی لئِے اِیمان لایا ہے؟ تُو اِن سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھیگا

۵۱

-پھِر اُس سے کہا میَں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ اب سے تُم آسمان کو کُھلا اور خُدا کے فرشتوں کو اُوپر جاتے اور اِبنِ آدم پر اُترتے دیکھو گے

Personal tools