John 21 Urdu

From Textus Receptus

Jump to: navigation, search

۱

-اِن باتوں کے بعد یِسُوؔع نے پھِر اپنے آپ کو تِبریاؔس کی جھِیل کے کِنارے شاگِردوں پر ظاہِر کِیا اور اِس طرح ظاہِر کِیا

۲

-شمؔعوُن پطؔرس اور تومؔا جو تواَؔم کہلاتا ہے اور نتؔن ایل جو قانایِ گِلؔیل کا تھا اور زبؔدی کے بیٹے اور اُس کے شاگِردوں میں سے دو اَور شخص جمع تھے

۳

شمؔعوُن پطرس نے اُن سے کہا مَیں مچھلی کے شکار کو جاتا ہُوں-اُنہوں نے اُس سے کہا ہم بھی تیرے ساتھ چلتے ہیں-وہ نِکل کر کشتی پر فی الفَور سوار ہُوئے مگر اُس رات کُچھ نہ پکڑا

۴

-اور صُبح ہوتے ہی یِسُوؔع کنارے پر آکھڑا ہُؤا مگر شاگِردوں نے نہ پہچانا کہ یہ یِسُوؔع ہے

۵

-پس یِسُوؔع نے اُن سے کہا بچّو!تُمہارے پاس کُچھ کھانے کو ہے؟اُنہوں نے جواب دِیا کہ نہیں

۶

-اُس نے اُن سے کہا کشتی کی دہنی طرف جال ڈالو تو پکڑوگے-پس اُنہوں نے ڈالا اور مچھلیوں کی کثرت سے پھِر کھینچ نہ سکے

۷

اِس لِئے اُس شاگِرد نے جِس سے یِسُوؔع مُحبّت رکھتا تھا پطؔرس سے کہا کہ یہ تو خُداوند ہے-پس شمؔعوُن پطرس نے یہ سُنکر کہ خُداوند ہے کُرتہ کمر سے باندھا کیونکہ ننگا تھا اور جھِیل میں کُود پڑا

۸

-اور باقی شاگِرد چھوٹی کشتی پر سوار مچھلیوں کا جال کھینچتے ہُوئے آئے کیونکہ وہ کنارے سے کُچھ دُور نہ تھے بلکہ تخمِیناََ دوسَو ہاتھ کا فاصِلہ تھا

۹

-جِس وقت کنارے پر اُترے تو اُنہوں نے کوئلوں کی آگ اور اُس پر مچھلی رکھّی ہُوئی اور روٹی دیکھی

۱۰

-یِسُوؔع نے اُن سے کہا جو مچھلیاں تُم نے ابھی پکڑی ہیں اُن میں سے کُچھ لاؤ

۱۱

-شمؔعوُن پطرس نے چڑھ کر ایک سَوترپن بڑی مچھلیوں سے بھرا ہُؤا جال کنارے پر کھینچا مگر باوُجُود مچھلیوں کی کثرت کے جال نہ پھٹا

۱۲

-یِسُوؔع نے اُن سے کہا آؤ کھانا کھالو اور شاگِرودں میں سے کِسی کو جُراًت نہ ہُوئی کہ اُس سے پُوچھتا کہ تُو کَون ہے؟کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خُداوند ہی ہے

۱۳

-یِسُوؔع آیا اور روٹی لے کر اُنہیں دی-اِسی طرح مچھلی بھی دی

۱۴

-یِسُوؔع مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد یہ تِیسری بار شاگِردوں پر ظاہِر ہُؤا

۱۵

اور جب کھانا کھاچُکے تو یِسُوؔع نے شمؔعوُن پطرس سے کہا اَے شمؔعوُن یُوحؔنّا کے بیٹے کیا تُو اِن سے زِیادہ مُجھ سے مُحبّت رکھتا ہے؟اُس نے اُس سے کہا ہاں خُداوند تُو تو جانتا ہی ہے کہ مَیں تُجھے عزِیز رکھتا ہُوں-اُس نے اُس سے کہا-تو میرے برّے چرا

۱۶

اُس نے دوبارہ اُس سے پھِر کہا اَے شمؔعوُن یُوحؔنّا کے بیٹے کیا تُو مُجھ سے مُحبّت رکھتا ہے؟اُس نے کہا ہاں خُداوند تُو تو جانتا ہی ہے کہ مَیں تُجھ کو عزِیز رکھتا ہُوں-اُس نے اُس سے کہا تو میری بھیڑوں کی گلّہ بانی کر

۱۷

اُس نے تِیسری بار اُس سے کہا اَے شمؔعوُن یُوحؔنّا کے بیٹے کیا تُو مُجھے عزِیز رکھتا ہے؟چُونکہ اُس نے تِیسری بار اُس سے کہا کیا تُو مُجھے عزِیز رکھتا ہے اِس سبب سے پطؔرس نے دِلگیر ہو کر اُس سے کہا اَے خُداوند!تُو تو سب کُچھ جانتا ہے-تجُھے معلُوم ہی ہےکہ مَیں تُجھے عزِیز رکھتا ہُوں-یِسُوؔع نے اُس سے کہا تو میری بھیڑیں چرا

۱۸

میں تُجھ سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تُو جوان تھا تو آپ ہی اپنی کمر باندھتا تھا اور جہاں چاہتا تھا پھِرتا تھا مگر جب تُو بُوڑھا ہوگا تو اپنے ہاتھ لمبے کرے گا اور دُوسرا شخص تیری کمر باندھیگا اور جہاں تُو نہ چاہے گا وہاں تُجھے لیجائے گا

۱۹

-اُس نے اِن باتوں سے اِشارہ کردِیا کہ وہ کِس طرح کی مَوت سے خُدا کا جلال ظاہِر کرے گا اور یہ کہہ کر اُس سے کہا میرے پِیچھے ہولے

۲۰

پطؔرس نے مُڑکر اُس شاگِرد کو پِیچھے آتے دیکھا جِس سے یِسُوؔع مُحبّت رکھتا تھا اور جِس نے شام کے کھانے کے وقت اُس کے سِینہ کا سہارا لے کر پُوچھا تھا کہ اَے خُداوند تیرا پکڑوانے والا کَون ہے؟

۲۱

-پطؔرس نے اُسے دیکھ کر یِسُوؔع سے کہا اَے خُداوند!اِس کا کیا حال ہوگا؟

۲۲

-یِسُوؔع نے اُس سے کہا اگر مَیں چاہُوں کہ یہ میرے آنے تک ٹھہرا رہے تو تُجھ کو کیا؟تُو میرے پِیچھے ہولے

۲۳

پس بھائیوں میں یہ بات مشہُور ہوگئی کہ وہ شاگِرد نہ مَریگا لیکن یِسُوؔع نے اُس سے یہ نہیں کہا تھا کہ یہ نہ مَریگا بلکہ یہ کہ اگر مَیں چاہُوں کہ یہ میرے آنے تک ٹھہرا رہے تو تُجھ کو کیا؟

۲۴

-یہ وُہی شاگِرد ہے جو اِن باتوں کی گواہی دیتا ہے اور جِس نے اِن کو لِکھا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اُس کی گواہی سچّی ہے

۲۵

-اَور بھی بُہت سے کام ہیں جو یِسُوؔع نے کِئے-اگر وہ جُدا جُدا لِکھے جاتے تو مَیں سمجھتا ہُوں کہ جو کِتابیں لِکھی جاتِیں اُن کے لِئے دُنیا میں گُنجایش نہ ہوتی- آمین

Personal tools