John 4 Urdu

From Textus Receptus

Jump to: navigation, search

۱

-پھِر جب خُداوند کو معلُوم ہُوا کہ فریسیوں نے سُنا ہے کہ یِسُوؔع یُوحؔنّا سے زِیادہ شاگِرد کرتا اور بپِتسمہ دیتا ہے

۲

-(گو یِسُوؔع آپ نہیں بلکہ اُس کے شاگِرد بپِتسمہ دیتے تھے)

۳

-تو وہ یہُودؔیہ کو چھوڑ کر پھِر گلِؔیل کو چلا گیا

۴

-اور اُس کو سامؔریہ سے ہو کر جانا ضرُور تھا

۵

-پس وہ سامؔریہ کے ایک شہر تک آیا جو سُوخؔار کہلاتا ہے-وہ اُس قطعہ کے نزدِیک ہے جو یعقُوؔب نے اپنے بیٹے یُوسُؔف کو دِیا تھا

۶

-اور یعقُؔوب کا کُنواں وہیں تھا-چُنانچہ یِسُوؔع سفر سے تھکا ماندہ ہو کر اُس کُویئں پر یونہی بَیٹھ گیا-یہ چھٹے گھنٹے کے قریب تھا

۷

-سامؔریہ کی ایک عَورت پانی بھرنے آئی- یِسُوؔع نے اُس سے کہا مُجھے پانی پِلا

۸

-کیونکہ اُس کے شاگِرد شہر میں کھانا مول لینے کو گئے تھے

۹

-اُس سامری عَورت نے اُس سے کہا کہ تُو یہُودی ہوکر مُجھ سامری عَورت سے پانی کیوں مانگتا ہے؟ کیونکہ یہُودی سامریوں سے کِسی طرح کا برتاؤ نہیں رکھتے

۱۰

یِسُوؔع نے جواب میں اُس سے کہا اگر تُو خُدا کی بخثِش کو جانتی اور یہ بھی جانتی کہ وہ کَون ہے جو تُجھ سے کہتا ہے مُجھے پانی پِلا تو تُو اُس سے مانگتی اور وہ تُجھے زِندگی کا پانی دیتا

۱۱

-عَورت نے اُس سے کہا اَے خُداوند تیرے پاس پانی بھرنے کو تو کُچھ ہے نہیں اور کُنواں گہرا ہے-پھر وہ زِندگی کا پانی تیرے پاس کہاں سے آیا؟

۱۲

-کیا تُو ہمارے باپ یعقُؔوب سے بڑا ہے جِس نے ہم کو یہ کُنواں دِیا اور خُود اُس نے اور اُس کے بیٹوں نے اور اُس کے مویشی نے اُس میں سے پِیا؟

۱۳

-یِسُوؔع نے جواب میں اُس سے کہا جو کوئی اِس پانی میں سے پِیتا ہے وہ پِھر پِیاسا ہوگا

۱۴

مگر جو کوئی اُس پانی میں سے پِئے گا جو مَیں اُسے دُونگا وہ ابد تک پِیاسا نہ ہوگا بلکہ جو پانی مَیں اُسے دُونگا وہ اُس میں ایک چشمہ بن جائے گا جو ہمیشہ کی زِندگی کے لئِے جاری رہے گا

۱۵

-عَورت نے اُس سے کہا اَے خُداوند وہ پانی مُجھ کو دے تاکہ مَیں نہ پِیاسی ہُوں نہ پانی بھرنے کو یہاں تک آؤں

۱۶

-یِسُوؔع نے اُس سے کہا جا اپنے شَوہر کو یہاں بُلا لا

۱۷

-عَورت نے جواب میں اُس سے کہا کہ مَیں بے شَوہر ہُوں-یِسُوؔع نے اُس سے کہا تُو نے خُوب کہا کہ مَیں بے شَوہر ہُوں

۱۸

-کیونکہ تُو پانچ شَوہر کر چُکی ہے اور جِس کے پاس تُو اب ہے وہ تیرا شَوہر نہیں-یہ تُو نے سچ کہا

۱۹

-عَورت نے اُس سے کہا اَے خُداوند مُجھے معلُوم ہوتا ہے کہ تُو بنی ہے

۲۰

-ہمارے باپ دادا نے اِس پہاڑ پر پرستِش کی اور تُم کہتے ہو کہ وہ جگہ جہاں پرستِش کرنا چاہتے یرُوشلؔیم میں ہے

۲۱

-یِسُوؔع نے اُس سے کہا اَے عَورت!میری بات کا یقِین کر کہ وہ وقت آتا ہے کہ تُم نہ تو اِس پہاڑ پر باپ کی پرستِش کرو گے اور نہ یرُوشلؔیم میں

۲۲

-تُم جِسے نہیں جانتے اُس کی پرستِش کرتے ہو-ہم جِسے جانتے ہیں اُس کی پرستِش کرتے ہیں کیونکہ نجات یہُودِیوں میں سے ہے

۲۳

-مگر وہ وقت آتا ہے بلکہ اب ہی ہے کہ سچّے پرستار باپ کی پرستِش رُوح اور سچّائی سے کریں گے کیونکہ باپ اپنے لئِے اَیسے پرستار ڈُهونڈتا ہے

۲۴

-خُدا رُوح ہے اور ضرُور ہے کہ اُس کے پرستار رُوح اور سچّائی سے پرستِش کریں

۲۵

-عَورت نے اُس سے کہا مَیں جانتی ہُوں کہ مسِیح جو خرِستُؔس کہلاتا ہے آنے والا ہے-جب وہ آئے گا تو ہمیں سب باتیں بتادے گا

۲۶

-یِسُوؔع نے اُس سے کہا مَیں جو تُجھ سے بول رہا ہُوں وُہی ہُوں

۲۷

-اِتنے میں اُس کے شاگِرد آگئے اور تعُّجب کرنے لگے کہ وہ عَورت سے باتیں کررہا ہے تُو بھی کِسی نے نہ کہا کہ تُو کیا چاہتا ہے؟یا اُس سے کِس لئِے باتیں کرتا ہے؟

۲۸

-پس عَورت اپنا گھڑا چھوڑ کر شہر میں چلی گئی اور لوگوں سے کہنے لگی

۲۹

-آؤ-ایک آدمی کو دیکھو جِس نے میرے سب کام مُجھے بتادِئے-کیا مُمکِن ہے کہ مسِیح یہی ہے؟

۳۰

-وہ شہر سے نِکل کر اُس کے پاس آنے لگے

۳۱

-اِتنے میں اُس کے شاگِرد اُس سے یہ درخواست کرنے لگے کہ اَے ربّی!کُچھ کھالے

۳۲

-لیکن اُس نے اُن سے کہا میرے پاس کھانے کے لئِے اَیسا کھانا ہے جِسے تُم نہیں جانتے

۳۳

-پس شاگِردوں نے آپس میں کہا کیا کوئی اُس کے لئِے کُچھ کھانے کو لایا ہے؟

۳۴

-یِسُوؔع نے اُن سے کہا میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے مُوافِق عمل کرُوں اور اُس کا کام پُورا کرُوں

۳۵

-کیا تُم کہتے نہیں کہ فصل کے آنے میں ابھی چار مہینے باقی ہیں؟دیکھو مَیں تُم سے کہتا ہُوں اپنی آنکھیں اُٹھا کر کھیتوں پر نظر کرو کہ فصل پک گئی ہے

۳۶

-اور کاٹنے والا مُزدوری پاتا اور ہمیشہ کی زِندگی کے لئِے پَھل جمع کرتا ہے تاکہ بونے والا اور کاٹنے والا دونوں مِلکر خُوشی کریں

۳۷

-کیونکہ اِس پر یہ مثل ٹھیک آتی ہے کہ بونے والا اَور ہے-کاٹنے والا اَور

۳۸

-مَیں نے تُمہیں وہ کھیت کاٹنے کے لئِے بھیجا جِس پر تُم نے محِنت نہیں کی-اَوروں نے محِنت کی اور تُم اُن کی محِنت کے پَھل میں شرِیک ہُوئے

۳۹

-اور اُس شہر کے بُہت سے سامری اُس عَورت کے کہنے سے جِس نے گواہی دی کہ اُس نے میرے سب کام مُجھے بتادِئے اُس پر اِیمان لائے

۴۰

-پس جب وہ سامری اُس کے پاس آئے تو اُس سے درخواست کرنے لگے کہ ہمارے پاس رہ چُنانچہ وہ دو روز وہاں رہا

۴۱

-اور اُس کے کلام کے سبب سے اَور بھی بہتیرے اِیمان لائے

۴۲

-اور اُس عَورت سے کہا اب ہم تیرے کہنے ہی سے اِیمان نہیں لاتے کیونکہ ہم نے خُود سُن لِیا اور جانتے ہیں کہ یہ فی الحقیِقت مسِیح، دنیا کا نجات دہندہ ہے

۴۳

-پھِر اُن دو دِنوں کے بعد وہ وہاں سے روانہ ہوکر گلِؔیل کو گیا

۴۴

-کیونکہ یِسُوؔع نے خُود گواہی دی کہ نبی اپنے وطن میں عِزّت نہیں پاتا

۴۵

پس جب وہ گلِؔیل میں آیا تو گلِیلِیوں نے اُسے قبُول کِیا-اِس لِئے کہ جِتنے کام اُس نے یرُوشلؔیم میں عِید کے وقت کئِے تھے اُنہوں نے اُن کو دیکھا تھا کیونکہ وہ بھی عِید میں گئے تھے

۴۶

-اور یِسُوؔع قانایِ گلِؔیل میں آیا جہاں اُس نے پانی کو مَے بنایا تھا اور بادشاہ کا ایک ملازِم تھا جِس کا بیٹا کَفرؔنحُوم میں بیِمار تھا

۴۷

-وہ یہ سُنکر کہ یِسُوؔع یہُودؔیہ سے گلِؔیل میں آگیا ہے اُس کے پاس گیا اور اُس سے درخواست کرنے لگا کہ چل کر میرے بیٹے کو شِفا بخش کیونکہ وہ مَرنے کو تھا

۴۸

-یِسُوؔع نے اُس سے کہا جب تک تُم نِشان اور عجِیب کام نہ دیکھو ہوگز اِیمان نہ لاؤگے

۴۹

-بادشاہ کے ملازِم نے اُس سے کہا اَے خُداوند میرے بچّہ کے مَرنے سے پہلے چل

۵۰

-یِسُوؔع نے اُس سے کہا جا تیرا بیٹا جِیتا ہے-اُس شخص نے اُس بات کا یقِین کِیا جو یِسُوؔع نے اُس سے کہی اور چلا گیا

۵۱

-وہ راستہ ہی میں تھا کہ اُس کے نوکر اُسے مِلے اور کہنے لگے کہ تیرا بیٹا جِیتا ہے

۵۲

-اُس نے اُن سے پُوچھا کہ اُسے کِس وقت سے آرام ہونے لگا تھا؟اُنہوں نے کہا کہ کَل ساتویں گھنٹے میں اُسکلی تپ اُترگئی

۵۳

-پس باپ جان گیا وُہی وقت تھا جب یِسُوؔع نے اُس سے کہا تھا تیرا بیٹا جِیتا ہے اور وہ خُود اور اُس کا سارا گھرانا اِیمان لایا

۵۴

-یہ دُوسرا معُجِزہ ہے جو یِسُوؔع نے یہُودؔیہ سے گلِؔیل میں آکر دِکھایا

Personal tools