Luke 1 Urdu

From Textus Receptus

Jump to: navigation, search

۱

-چُونکہ بُہتوں نے اِس پر کمر باندھی ہے کہ جو باتیں ہمارے درمیان واقع ہُوئیں اُن کو ترتِیب وار بیان کریں

۲

-جَیسا کہ اُنہوں نے جو شُروع سے خُود دیکھنے والے اور کلام کے خادِم تھے اُن کو ہم تک پُہنچایا

۳

-اِس لِئے اَے مُعزّز تھِیُفِلُسؔ مَیں نے بھی مُناسِب جانا کہ سب باتوں کا سِلسِلہ شُروع سے ٹھِیک ٹھِیک دریافت کرکے اُن کو تیرے لِئے ترتِیب سے لِکُھوں

۴

-تاکہ جِن باتوں کی تُو نے تعلِیم پائی ہے اُن کی پُختگی تُجھے معلُوم ہوجائے

۵

-یہُودؔیہ کے بادشاہ ہیروؔدیس کے زمانہ میں اَبِیّاؔہ کے فرِیق میں سے زکرؔیاہ نام ایک کاہِن تھا اور اُس کی بِیوی ہارُوؔن کی اَولاد میں سے تھی اور اُس کا نام اِلِیشَؔبع تھا

۶

-اور وہ دونوں خُدا کے حضُور راستباز اور خُداوند کے سب احکام و قوانِین پر بےعَیب چلنے والے تھے

۷

-اور اُن کے اَولاد نہ تھی کیونکہ اِلِیشبَؔع بانجھ تھی اور دونوں عُمر رسِیدہ تھے

۸

-جب وہ خُدا کے حضُور اپنے فرِیق کی باری پر کہانت کا کام انجام دیتا تھا تو اَیسا ہُؤا

۹

-کہ کہانت کے دستُور کے مُوافِق اُس کے نام کا قُرعہ نِکلا کہ خُداوند کے مَقدِس میں جاکر خُوشبُو جلائے

۱۰

-اور لوگوں کی ساری جماعت خوشبُو جلاتے وقت باہر دُعا کررہی تھی

۱۱

-تب خُداوند کا فرِشتہ خوشبُو کے مذبح کی دہنی طرف کھڑا ہُؤا اُس کو دِکھائی دِیا

۱۲

-اور زکرؔیاہ دیکھ کر گھبرایا اور اُس پر دہشت چھا گئی

۱۳

-مگر فرِشتہ نے اُس سے کہا اَے زکرؔیاہ! خَوف نہ کر کیونکہ تیری دُعا سُن لی گئی اور تیرے لِئے تیری بِیوی اِلِیشؔبَع کے بیٹا ہوگا۔ تُو اُس کا نام یُوحؔنّا رکھنا

۱۴

-اور تُجھے خُوشی و خُرمی ہوگی اور بُہت سے لوگ اُس کی پَیدایش کے سبب سے خُوش ہونگے

۱۵

-کیونکہ وہ خُداوند کے حضُور میں بُزُرگ ہوگا اور ہرگِز نہ مَے نہ کوئی اَور شراب پِیئگا اور اپنی ماں کے پیٹ ہی سے رُوحُ القُدس سے بھر جائے گا

۱۶

-اور بُہت سے بنی اِسرؔائیل کو خُداوند کی طرف جو اُن کا خُدا ہے پھیریگا

۱۷

اور وہ ایلؔیّاہ کی رُوح اور قُوّت میں اُس کے آگے آگے چلے گا کہ والِدوں کے دِل اَولاد کی طرف اور نافرمانوں کو راستبازوں کی دانائی پر چلنے کی طرف پھیرے اور خُداوند کے لِئے ایک مُستعِد قَوم تیّار کرے

۱۸

-تب زکرؔیاہ نے فرِشتہ سے کہا مَیں اِس بات کو کِس طرح جانُوں؟ کیونکہ مَیں بُوڑھا ہُوں اور میری بِیوی عُمررسِیدہ ہے

۱۹

فرِشتہ نے جواب میں اُس سے کہا مَیں جبرؔائیل ہُوں جو خُدا کے حضُور کھڑا رہتا ہُوں اور اِس لِئے بھیجا گیا ہُوں کہ تُجھ سے کلام کرُوں اور تُجھے اِن باتوں کی خُوشخبری دُوں

۲۰

-اور دیکھ جِس دِن تک یہ باتیں واقِع نہ ہولیں تُو چُپکا رہے گا۔ اور بول نہ سکیگا۔ اِس لِئے کہ تُو نے میری باتوں کا جو اپنے وقت پر پُوری ہونگی یقِین نہ کِیا

۲۱

-اور لوگ زکرؔیاہ کی راہ دیکھتے اور تعجُّب کرتے تھے کہ اُسے مَقدِس میں کیوں دیر لگی

۲۲

-جب وہ باہر آیا تو اُن سے بول نہ سکا۔ پس اُنہوں نے معلُوم کِیا کہ اُس نے مَقدِس میں رویا دیکھی ہے اور وہ اُن سے اِشارے کرتا تھا اور گُونگا ہی رہا

۲۳

-پھِر اَیسا ہُؤا کہ جب اُس کی خِدمت کے دِن پُورے ہوگئے تو وہ اپنے گھر گیا

۲۴

-اِن دِنوں کے بعد اُس کی بِیوی اِلِیشؔبَع حامِلہ ہُوئی اور اُس نے پانچ مہینے تک اپنے تئِیں یہ کہہ کر چِھپائے رکھّا کہ

۲۵

-جب خُداوند نے میری رُسوائی لوگوں میں سے دُور کرنے کے لِئے مُجھ پر نظر کی اُن دِنوں میں اُس نے میرے لِئے اَیسا کِیا

۲۶

-چھٹے مہینے میں جبرؔائیل فرِشتہ خُدا کی طرف سے گلِیؔل کے ایک شہر میں جِس کا نام ناصؔرۃ تھا ایک کُنواری کے پاس بھیجا گیا

۲۷

-جِس کی منگنی داؔؤد کے گھرانے کے ایک مرد یُوسُؔف نام سے ہُوئی تھی اور اُس کُنواری کا نام مرؔیم تھا

۲۸

-اور فرِشتہ نے اُس کے پاس اندر آکر کہا سلام تُجھ کو جِس پر فضل ہُؤا ہے! خُداوند تیرے ساتھ ہے اور تُو عَورتوں میں مُبارک ہے

۲۹

-پر وہ اُسے دیکھ کر اِس کلام سے بُہت گھبرا گئی اور سوچنے لگی کہ یہ کَیسا سلام ہے

۳۰

-تب فرِشتہ نے اُس سے کہا اَے مرؔیم! خَوف نہ کر کیونکہ خُداوند کی طرف سے تُجھ پر فضل ہُؤا ہے

۳۱

-اور دیکھ تُو حامِلہ ہوگی اور تیرے بیٹا ہوگا۔ اُس کا نام یِسُوؔع رکھنا

۳۲

-وہ بُزُرگ ہوگا اور خُدا تعالیٰ کا بیٹا کہلائے گا اور خُداوند خُدا اُس کے باپ داؔؤد کا تخت اُسے دے گا

۳۳

-اور وہ یعقُؔوب کے گھرانے پر ابد تک بادشاہی کرے گا اور اُس کی بادشاہی کا آخِر نہ ہوگا

۳۴

-تب مرؔیم نے فرِشتہ سے کہا کہ یہ کیونکر ہوگا جبکہ مَیں مَرد کو نہیں جانتی؟

۳۵

اور فرِشتہ نے جواب میں اُس سے کہا کہ رُوحُ القُدس تُجھ پر نازِل ہوگا اور خُدا تعالیٰ کی قُدرت تُجھ پر سایہ ڈالے گی اور اِس سبب سے وہ مولُودِ مُقدّس خُدا کا بیٹا کہلائے گا

۳۶

-اور دیکھ تیری رِشتہ دار اِلِیشؔبَع کے بھی بُڑھاپے میں بیٹا ہونے والا ہے اور اب اُس کو جو بانجھ کہلاتی تھی چھٹا مہینہ ہے

۳۷

-کیونکہ جو قَول خُدا کی طرف سے ہے وہ ہرگِز بے تاثِیر نہ ہوگا

۳۸

-اور مرؔیم نے کہا دیکھ مَیں خُداوند کی بندی ہُوں۔ میرے لِئے تیرے قَول کے مُوافِق ہو۔ تب فرِشتہ اُس کے پاس سے چلا گیا

۳۹

-اُن ہی دِنوں مرؔیم اُٹھی اور جلدی سے پہاڑی مُلک میں یہُودؔاہ کے ایک شہر کو گئی

۴۰

-اور زکرؔیاہ کے گھر میں داخِل ہوکر اِلِیشؔبَع کو سلام کِیا

۴۱

-اور جُونہی اِلِیشؔبَع نے مرؔیم کا سلام سُنا تو اَیسا ہُوَا کہ بچّہ اُس کے پیٹ میں اُچھل پڑا اور اِلِیشؔبَع رُوحُ القُدس سے بھر گئی

۴۲

-اور بلند آواز سے پُکار کر کہنے لگی کہ تُو عَورتوں میں مُبارک اور تیرے پیٹ کا پَھل مُبارک ہے

۴۳

-اور مُجھ پر یہ فضل کہاں سے ہُوَا کہ میرے خُداوند کی ماں میرے پاس آئی؟

۴۴

-کیونکہ دیکھ جُونہی تیرے سلام کی آواز میرے کان میں پُہنچی بچّہ مارے خُوشی کے میرے پیٹ میں اُچھل پڑا

۴۵

-اور مُبارک ہے وہ جو اِیمان لائی کیونکہ جو باتیں خُداوند کی طرف سے اُس سے کہی گئی تھِیں وہ پُوری ہونگی

۴۶

-پھِر مرؔیم نے کہا کہ میری جان خُداوند کی بڑائی کرتی ہے

۴۷

-اور میری رُوح میرے مُنّجی خُدا سے خُوش ہُوئی

۴۸

-کیونکہ اُس نے اپنی بندی کی پست حالی پر نظر کی اور دیکھ اب سے لے کر ہر زمانہ کے لوگ مُجھ کو مُبارک کہیں گے

۴۹

-کیونکہ اُس قادِر نے میرے لِئے بڑے بڑے کام کِئے ہیں اور اُس کا نام پاک ہے

۵۰

-اور اُس کا رحم اُن پر جو اُس سے ڈرتے ہیں پُشت در پُشت رہتا ہے

۵۱

-اُس نے اپنے بازُو سے زور دِکھایا اور جو اپنے تئیِں بڑا سمجھتے تھے اُن کو پراگندہ کِیا

۵۲

-اُس نے اِختیار والوں کو تخت سے گِرا دِیا اور پست حالوں کو بلند کِیا

۵۳

-اُس نے بُھوکوں کو اچھّی چِیزوں سے سیر کردِیا اور دَولتمندوں کو خالی ہاتھ لَوٹا دِیا

۵۴

-اُس نے اپنے خادِم اِسرؔائیل کو سنبھال لِیا تاکہ اپنی اُس رحمت کو یاد فرمائے

۵۵

-جو ابرؔہام اور اُس کی نسل پر ابد تک رہے گی جَیسا اُس نے ہمارے باپ دادا سے کہا تھا

۵۶

-اور مرؔیم تِین مہینے کے قریب اُس کے ساتھ رہ کر اپنے گھر لَوٹ گئی

۵۷

-اور اِلِیشؔبَع کے وضعِ حمل کا وقت آ پُہنچا اور اُس کے بیٹا ہُؤا

۵۸

-اور اُس کے پڑوسیوں اور رِشتہ داروں نے یہ سُنکر کہ خُداوند نے اُس پر بڑی رحمت کی اُس کے ساتھ خُوشی منائی

۵۹

-اور آٹھویں دِن اَیسا ہُؤا کہ وہ لڑکے کا خَتنہ کرنے آئے اور اُس کا نام اُس کے باپ کے نام پر زکرؔیاہ رکھنے لگے

۶۰

-مگر اُس کی ماں نے کہا نہیں بلکہ اُس کا نام یُوحؔنّا رکھّا جائے

۶۱

-اُنہوں نے اُس سے کہا کہ تیرے کُنبے میں کِسی کا یہ نام نہیں

۶۲

-تب اُنہوں نے اُس کے باپ کو اِشارہ کِیا کہ تُو اُس کا نام کیا رکھنا چاہتا ہے؟

۶۳

-اُس نے تختی منگا کر یہ لِکھا کہ اُس کا نام یُوحؔنّا ہے اور سب نے تعجُّب کِیا

۶۴

-اُسی دَم اُس کا مُنہ اور زُبان کُھل گئی اور وہ بولنے اور خُدا کی حمد کرنے لگا

۶۵

-اور اُن کے آس پاس کے سب رہنے والوں پر دہشت چھاگئی اور یہُودؔیہ کے تمام پہاڑی مُلک میں اِن سب باتوں کا چرچا پھَیل گیا

۶۶

-اور سب سُننے والوں نے اُن کو دِل میں سوچ کر کہا تو یہ لڑکا کَیسا ہونے والا ہے؟ کیونکہ خُداوند کا ہاتھ اُس پر تھا

۶۷

-اور اُس کا باپ زکرؔیاہ رُوحُ القُدس سے بھر گیا اور نُبوّت کی راہ سے کہنے لگا کہ

۶۸

-خُداوند اِسرؔائیل کے خُدا کی حمد ہو کیونکہ اُس نے اپنی اُمّت پر توجُّہ کرکے اُسے چھُٹکارا دِیا

۶۹

-اور اپنے خادِم داؔؤد کے گھرانے میں ہمارے لِئے نجات کا سِینگ نِکالا

۷۰

(جَیسا اُس نے اپنے پاک نبیوں کی زبانی کہا تھا جو کہ دُنیا کے شُروع سے ہوتے آئے ہیں۔)

۷۱

-یعنی ہم کو ہمارے دُشمنوں سے اور سب کِینہ رکھنے والوں کے ہاتھ سے نجات بخشی

۷۲

-تاکہ ہمارے باپ دادا پر رحم کرے اور اپنے پاک عہد کو یاد فرمائے

۷۳

-یعنی اُس قَسم کو جو اُس نے ہمارے باپ ابرؔہام سے کھائی تھی

۷۴

-کہ وہ ہمیں یہ عنایت کرے گا کہ اپنے دُشمنوں کے ہاتھ سے چھُوٹ کر

۷۵

-اُس کے حضُور پاکِیزگی اور راستبازی سے عُمر بھر بیخَوف اُس کی عِبادت کریں

۷۶

-اور اَے لڑکے تُو خُدا تعالیٰ کا نبی کہلائے گا کیونکہ تُو خُداوند کی راہیں تیّار کرنے کو اُس کے آگے آگے چلے گا

۷۷

-تاکہ اُس کی اُمّت کو نجات کا عِلم بخشے جو اُن کو گُناہوں کی مُعافی سے حاصل ہو

۷۸

-یہ ہمارے خُدا کی عَین رحمت سے ہوگا جِس کے سبب سے عالمِ بالا کا آفتاب ہم پر طلُوع کرے گا

۷۹

-تاکہ اُن کو جو اندھیرے اور مَوت کے سایہ میں بَیٹھے ہیں رَوشنی بخشے اور ہمارے قَدموں کو سلامتی کی راہ پر ڈالے

۸۰

-اور وہ لڑکا بڑھتا اور رُوح میں قُوّت پاتا گیا اور اِسرؔائیل پر ظاہِر ہونے کے دِن تک جنگلوں میں رہا

Personal tools