Romans 14 Urdu

From Textus Receptus

Jump to: navigation, search

۱

-کمزور اِیمان والے کو اپنے میں شامِل توکرلو مگر شک و شُبہ کی تکراروں کے لِئے نہیں

۲

-ایک کو اِعتقاد ہے کہ ہر چِیز کا کھانا روا ہے اور کمزور اِیمان والا ساگ پات ہی کھاتا ہے

۳

-کھانے والا اُس کو جو نہیں کھاتا حقِیر نہ جانے اور جو نہیں کھاتا وہ کھانے والے پر اِلزام نہ لگائے کیونکہ خُدا نے اُس کو قبُول کر لِیا ہے

۴

تُوکَون ہے جو دُوسرے کے نَوکر پر اِلزام لگاتا ہے؟ اُس کا قائِم رہنا یاگِر پڑنا اُس کے مالِک ہی سے مُتعِلّق ہے بلکہ وہ قائِم ہی کر دِیا جائے گا کیونکہ خُداوند اُس کے قائِم کرنے پر قادِر ہے

۵

-کوئی تو ایک دِن کو دُوسرے سے افضل جانتا ہے اور کوئی سب دِنوں کو برابر جانتا ہے۔ ہر ایک اپنے دِل میں پُورا اِعتقاد رکھّے

۶

اور وہ جو دِن کو مانتا ہے وہ خُداوند کے لِئے مانتا ہے اور وہ جو دِن کو نہیں مانتا ہے وہ خُداوند کے لِئے نہیں مانتا ہے اور جو کھاتا ہے وہ خُداوند کے واسطے کھاتا ہے کیونکہ وہ خُدا کا شُکر کرتا ہے اور جو نہیں کھاتا وہ بھی خُداوند کے واسطے نہیں کھاتا اور خُدا کا شُکر کرتا ہے

۷

-کیونکہ ہم میں سے نہ کوئی اپنے واسطے جِیتا ہے نہ کوئی اپنے واسطے مَرتا ہے

۸

-اگر ہم جِیتے ہیں تو خُداوند کے واسطے جِیتے ہیں اور اگر مَرتے ہیں تو خُداوند کے واسطے مَرتے ہیں۔ پس ہم جِئیں یا مَریں خُداوند ہی کے ہیں

۹

-کیونکہ مسِیح اِسی لِئے مُؤا اور زِندہ ہُؤا اور جِیٔا کہ مُردوں اور زِندوں دونوں کا خُداوند ہو

۱۰

-مگر تُو اپنے بھائی پر کِس لِئے اِلزام لگاتا ہے؟ یا تُو بھی کِس لِئے اپنے بھائی کو حقِیر جانتا ہے؟ ہم تو سب مسِیح کے تختِ عدالت کے آگے کھڑے ہونگے

۱۱

-چُنانچہ یہ لِکھّا ہے کہ خُداوند فرماتا ہے مُجھے اپنی حیات کی قَسم ہر ایک گُھٹنا میرے آگے جُھکیگا اور ہر ایک زُبان خُدا کا اِقرار کرے گی

۱۲

-پس ہم میں سے ہر ایک خُدا کو اپنا حساب دے گا

۱۳

-پس آیندہ کو ہم ایک دُوسرے پر اِلزام نہ لگائیں بلکہ تُم یہی ٹھان لوکہ کوئی اپنے بھائی کے سامنے وہ چِیز نہ رکھّے جو اُس کے ٹھوکر کھانے یا گِرنے کا باعِث ہو

۱۴

-مُجھے معلُوم ہے بلکہ خُداوند یِسُوؔع میں مُجھے یقِین ہے کہ کوئی چِیز بزاتہِ حرام نہیں لیکن جو اُس کو حرام سمجھتا ہے اُس کے لِئے حرام ہے

۱۵

-اگر تیرے بھائی کو تیرے کھانے سے رنج پُہنچتا ہے تو پھِر تُو مُحبّت کے قاعِدہ پر نہیں چلتا۔ جِس شخص کے واسطے مسِیح مُؤا اُس کو تُو اپنے کھانے سے ہلاک نہ کر

۱۶

-پس تُمہاری نیکی کی بدنامی نہ ہو

۱۷

-کیونکہ خُدا کی بادشاہی کھانے پینے پر نہیں بلکہ راستبازی اور میل مِلاپ اور اُس خُوشی پر مَوقُوف ہے جو رُوحُ القُدس کی طرف سے ہوتی ہے

۱۸

-اور جو کوئی اِس طَور سے مسِیح کی خِدمت کرتا ہے وہ خُدا کا پسندِیدہ اور آدمِیوں کا مقبُول ہے

۱۹

-پس ہم اُن باتوں کے طالِب رہیں جِن سے میل مِلاپ اور باہمی ترقّی ہو

۲۰

-کھانے کی خاطِر خُدا کے کام کو نہ بِگاڑ- ہر چِیز پاک تو ہے مگر اُس آدمی کے لِئے بُری ہے جِس کو اُس کے کھانے سے ٹھوکر لگتی ہے

۲۱

-یہی اچھّا ہے کہ تُو نہ گوشت کھائے۔ نہ مَے پِئے۔ نہ اَور کُچھ اَیسا کرے جِس کے سبب سے تیرا بھائی ٹھوکر کھائے یا سست ہو جائے

۲۲

-تو اِعتقاد رکھتا ہے؟ وہ خُدا کی نظر میں تیرے ہی دِل میں رہے۔ مُبارک وہ ہے جو اُس چِیز کے سبب سے جِسے وہ جائِز رکھتا ہے اپنے آپ کو مُلزم نہیں ٹھہراتا

۲۳

-مگر جو کوئی کِسی چِیز میں شُبہ رکھتا ہے اگر اُس کو کھائے تو مُجرِم ٹھہرتا ہے اِس واسطے کہ وہ اِعتقاد سے نہیں کھاتا اور جو کُچھ اِعتقاد سے نہیں وہ گُناہ ہے

Personal tools