Genesis 1 Urdu

From Textus Receptus

Jump to: navigation, search
1 پَیدایش

۱

خُدا نے اِبتدا میں زمِین و آسمان کو پَیدا کِیا۔

۲

اور زمِین وِیران اور سُنسان تھی اور گہراؤ کے اُوپر اندھیرا تھا اور خُدا کی روُح پانی کی سطح پر جُنبِش کرتی تھی۔

۳

اور خُدا نے کہا کہ رَوشنی ہو جا اور رَوشنی ہو گئی۔

۴

اور خُدا نے دیکھا کہ رَوشنی اچھّی ہے اور خُدا نے رَوشنی کو تارِیکی سے جُدا کِیا۔

۵

اور خُدا نے رَوشنی کو تو دِن کہا اور تارِیکی کو رات اور شام ہُوئی اور صُبح ہوئی۔ سو پہلا دِن ہُوا۔

۶

اور خُد ا نے کہا کہ پانیوں کے درمیان فضا ہو تاکہ پانی پانی سے جُدا ہو جائے۔

۷

پس خُدا نے فضا کو بنایا اور فضا کے نِیچے کے پانی کو فضا کے اُوپر کے پانی سے جُدا کِیا اور اَیسا ہی ہُؤا۔

۸

اور خُدا نے فضا کو آسمان کہا اور شام ہُوئی اور صُبح ہُوئی ۔ سو دُوسرا دن ہُؤا۔

۹

اور خُدا نے کہا کہ آسمان کے نِیچے کا پانی ایک جگہ جمع ہو کر خُشکی نظر آئے اور اَیسا ہی ہُؤا۔

۱۰

اور خُدا نے خُشکی کو زمِین کہا اور جو پانی جمع ہو گیا تھا اُسکو سمُندر اور خُدا نے دیکھا کہ اچھّا ہے۔

۱۱

اور خُدا نے کہا کہ زمِین گھاس اور بِیج دار بوٹِیوں کو اور پَھلدار درختوں کو جو اپنی اپنی جِنس کے مُوافِق پَھلیں اور جو زمِین پر اپنے آپ ہی میں بِیج رکھّیں اُگائے اور اَیسا ہی ہُؤا۔

۱۲

تب زمِین نے گھاس اور بوٹِیوں کو جو اپنی اپنی جِنس کے مُوافِق بِیج رکھّیں اور پَھلدار درختوں کو جِنکے بِیج اُنکی جِنس کے مُوافِق اُن میں ہیں اُگایا اور خُدا نے دیکھا کہ اچھّا ہے۔

۱۳

اور شام ہُوئی اور صُبح ہُوئی۔ سو تِیسرا دِن ہُؤا۔

۱۴

اور خُدا نے کہا کہ فلک پر نیّر ہوں کہ دِن کو رات سے الگ کریں اور وہ نِشانوں اور زمانوں اور دِنوں اور برسوں کے اِمتیاز کے لئِے ہوں۔

۱۵

اور وہ فلک پر انوار کے لئِے ہوں کہ زمِین پر رَوشنی ڈالیں اور اَیسا ہی ہُؤا۔

۱۶

سو خُدا نے دو بڑے نیّر بنائے۔ ایک نیّرِ اکبر کہ دِن کو حُکم کرے اور ایک نیّرِ اصغر کہ رات پر حُکم کرے اور اُس نے ستاروں کو بھی بنایا۔

۱۷

اور خُدا نے اُن کو فلک پر رکھّا کہ زمِین پر رَوشنی ڈالیں۔

۱۸

اور دِن پر اور رات پر حُکم کریں اور اُجالے کو اندھیرے سے جُدا کریں اور خُدا نے دیکھا کہ اچھّا ہے۔

۱۹

اور شام ہُوئی اور صُبح ہُوئی۔ سو چَوتھا دن ہُؤا۔

۲۰

اور خُدا نے کہا کہ پانی جانداروں کو کثرت سے پَیدا کرے اور پرنِدے زمِین کے اُوپر فضا میں اُڑیں۔

۲۱

اور خُدا نے بڑے بڑے دریائی جانوروں کو اور ہر قِسم کے جاندار کو جو پانی سے بکثرت پَیدا ہوئے تھے اُنکی جِنس کے مُوافِق اور ہر قِسم کے پرِندوں کو اُنکی جِنس کے مُوافِق پَیدا کِیا اور خُدا نے دیکھا کہ اچھّا ہے۔

۲۲

اور خُدا نے اُنکو یہ کہکر برکت دی کہ پَھلو اور بڑھو اور اِن سمُندروں کے پانی کو بھر دو اور پرِندے زمِین پر بُہت بڑھ جائیں۔

۲۳

اور شام ہُوئی اور صُبح ہُوئی۔ سو پانچواں دِن ہُؤا۔

۲۴

اور خُدا نے کہا کہ زمِین جانداروں کو اُنکی جِنس کے مُوافِق چَوپائے اور رینگنے والے جاندار اور جنگلی جانور اُنکی جِنس کے مُوافِق پَیدا کرے اور اَیسا ہی ہُؤا۔

۲۵

اور خُدا نے جنگلی جانوروں اور چَوپایوں کو اُنکی جِنس کے مُوافِق اور زمِین کے رینگنے والے جان داروں کو اُن کی جِنس کے مُوافِق بنایا اور خُدا نے دیکھا کہ اچھّا ہے۔

۲۶

پھِر خُدا نے کہا کہ ہم اِنسان کو اپنی صُورت پر اپنی شبِیہہ کی مانِند بنائیں اور وہ سمُندر کی مچھلیوں اور آسمان کے پرِندوں اور چَوپایوں اور تمام زمِین اور سب جانداروں پر جو زمِین پر رینگتے ہیں اِختیار رکھّیں۔

۲۷

اور خُدا نے اِنسان کو اپنی صُورت پر پَیدا کِیا۔ خُدا کی صُورت پر اُسکو پَیدا کِیا۔ نر و ناری اُنکو پَیدا کِیا۔

۲۸

اور خُدا نے اُنکو برکت دی اور کہا کہ پَھلو اور بڑھو اور زمِین کو معمُور و محکُوم کرو اور سمُندر کی مچھلیوں اور ہوا کے پرِندوں اور کُل جانوروں پر جو زمِین پر چلتے ہیں اِختیار رکھّو۔

۲۹

اور خُدا نے کہا کہ دیکھو مَیں تمام رُویِ زمِین کی کُل بِیج دار سبزی اور ہر درخت جِس میں اُسکا بِیج دار زمِین کی کُل بِیج دار سبزی اور ہر درخت جِس میں اُسکا بِیج دار پَھل ہو تُمکو دیتا ہُوں۔ یہ تُمہارے کھانے کو ہوں۔

۳۰

اور زمِین کے کُل جانوروں کے لئِے اور ہوا کے کُل پرِندوں کے لئِے اور اُن سب کے لئِے جو زمِین پر رینگنے والے ہیں جِن میں زِندگی کا دَم ہے کُل ہری بوٹِیاں کھانے کو دیتا ہُوں اور اَیسا ہی ہُؤا۔

۳۱

اور خُدا نے سب پر جو اُس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بُہت اچھّا ہے اور شام ہُوئی اور صُبح ہُوئی۔ سو چھٹا دِن ہُؤا۔

Views
Personal tools
Navigation
Toolbox