Genesis 45 Urdu

From Textus Receptus

Jump to: navigation, search
45 پَیدایش

۱

تب یُوسُؔف اُنکے آگے جو اُسکے آس پاس کھڑے تھے اپنے کو ضبط نہ کر سکا اور چِلاّ کر کہا ہر ایک آدمی کو میرے پاس سے باہر کر دو۔ چنانچہ جب یُوسُؔف نے اپنے آپ کو اپنے بھائیوں پر ظاہر کِیا اُس وقت اَور کوئی اُسکے ساتھ نہ تھا۔

۲

اور وہ چِلاّ چِلاّ کر رونے لگا اور مِصریوں نے سُنا کہ فؔرعون کے محل میں بھی آواز گئی۔

۳

اور یُوسُؔف نے اپنے بھائیوں سے کہا میں یُوسُؔف ہُوں۔ کیا میرا باپ اب تک جِیتا ہے؟ اور اُسکے بھائی اُسے کُچھ جواب نہ دیسکے کیونکہ وہ اُسکے سامنے گھبرا گئے۔

۴

اور یُوسُؔف نے اپنے بھائیوں سے کہا ذرا نزدِیک آجاؤ اور وہ نزدِیک آئے۔ تب اُس نے کہا مَیں تُمہارا بھائی یُوسُؔف ہُوں جِس کو تُم نے بیچ کر مِصؔر پُہنچوایا۔

۵

اور اِس بات سے کہ تُم نے مُجھے بیچ کر یہاں پُہنچوایا نہ تو غمگین ہو اور نہ اپنے اپنے دِل میں پریشان ہو کیونکہ خُدا نے جانوں کو بچانے کے لئِے مُجھے تُم سے آگے بھیجا۔

۶

اِس لئِے کہ اب دو برس سے مُلک میں کال ہے اور ابھی پانچ برس اَور اَیسے ہیں جِن میں نہ تو ہل چلیگا اور نہ فصل کٹیگی۔

۷

اور خُدا نے مُجھکو تُمہارے آگے بھیجا تاکہ تُمہارا بقِیہّ زمین پر سلامت رکھّے اور تُمکو بڑی رہائی کے وسیلہ سے زندہ رکھّے۔

۸

پس تُم نے نہیں بلکہ خُدا نے مُجھے یہاں بھیجا اور اُس نے مُجھے گویا فؔرعون کا باپ اور اُسکے سارے گھر کا خُداوند اور سارے مُلکِ مِصؔر کا حاکِم بنایا۔

۹

سو تُم جلد میرے باپ کے پاس جا کر اُس سے کہو کہ تیرا بیٹا یُوسُؔف یُوں کہتا ہے کہ خُدا نے مُجھ کو سارے مِصؔر کا مالِک کر دِیا ہے تُو میرے پاس چلا آ دیر نہ کر۔

۱۰

تُو جشؔن کے علاقہ میں رہنا اور تُو اور تیرے بیٹے اور تیرے پوتے اور تیری بھیڑ بکریاں اور گائے بیل اور تیرا مال و متاع یہ سب میرے نزدِیک ہونگے۔

۱۱

اور وہیں مَیں تیری پرورِش کرُونگا تا نہ ہو کہ تُحھکو اور تیرے گھرانے اور تیرے مال و متاع کو مُفلسی آدبائے کیونکہ کال کے ابھی پانچ برس اَور ہیں۔

۱۲

اور دیکھو تُمہاری آنکھیں اور میرے بھائی بینؔمین کی آنکھیں دیکھتی ہیں کہ خود میرے مُنہ سے یہ باتیں تُم سے ہو رہی ہیں۔

۱۳

اور تُم میرے باپ سے میری ساری شان و شوکت کا جو مُجھے مِصؔر میں حاصِل ہے اور جو کُچھ تُم نے دیکھا ہے سب کا ذِکر کرنا اور تُم بہت جلد میرے باپ کو یہاں لے آنا۔

۱۴

اور وہ اپنے بھائی بینؔمین کے گلے لگ کر رویا اور بینؔمین بھی اُسکے گلے لگ کر رویا۔

۱۵

اور اُس نے سب بھائیوں کوچُوما اور اُن سے مِلکر رویا۔ اِسکے بعد اُسکے بھائی اُس سے باتیں کرنے لگے۔

۱۶

اور فؔرعون کےمحل میں اِس بات کا ذِکر ہُوا کہ یُوسُؔف کے بھائی آئے ہیں اور اِس سے فؔرعون اور اُسکے نوکر چاکر بُہت خُوش ہوئے۔

۱۷

اور فؔرعون نے یوُؔسُف سے کہا کہ اپنے بھائیوں سے کہہ تُم یہ کام کرو کہ اپنے جانوروں کو لاد کر مُلکِ کنؔعان کو چلے جاؤ۔

۱۸

اور اپنے باپ کو اور اپنے اپنے گھرانے کو لیکر میرے پاس آجاؤ اور جو اور جو کُچھ مُلکِ مِصؔر میں اچھّے سے اچھّا ہے وہ مَیں تُمکو دُونگا اور تُم اس مُلک کی عُمدہ عُمدہ چیزیں کھانا۔

۱۹

تُجھے حُکم مِل گیا ہے کہ اُن سے کہے تُم یہ کرو کہ اپنے بال بچّوں اور اپنی بیویوں کے لئِے مُلکِ مِصؔر سے اپنے ساتھ گاڑیاں لیجاؤ اور اپنے باپ کو بھی ساتھ لیکر چلے آؤ۔

۲۰

اور اپنے اسباب کا کُچھ افسوس نہ کرنا کیونکہ مُلکِ مِصؔر کی سب اچّھی چِیزیں تُمہارے لئِے ہیں۔

۲۱

اور اِسؔرائیل کے بیٹوں نے اَیسا ہی کِیا اور یُوسُؔف نے فؔرعون کے حُکم کے مُطابِق اُنکو گاڑیاں دِیں اور زادِ راہ بھی دِیا۔

۲۲

اور اُس نے اُن میں سے ہر ایک کو ایک ایک جوڑا کپڑا دِیا لیکن بینؔمین کو چاندی کے تِین سَو سِکّے اور پانچ جوڑے کپڑے دِئے۔

۲۳

اور اپنے باپ کے لئِے اُس نے یہ چِیزیں بھیِجیں یعنی دس گدھے جو مِصؔر کی اچّھی چِیزوں سے لدے ہوئے تھے اور دس گدھیاں جو اُسکے باپ کے راستہ کے لئِے غلّہ اور روٹی اور زادِ راہ سے لدی ہوئی تھیں۔

۲۴

چنانچہ اُس نے اپنے بھائیوں کو روانہ کِیا اور وہ چل پڑے اور اُس نے اُن سے کہا دیکھنا! کہِیں راستہ میں تُم جھگڑا نہ کرنا۔

۲۵

اور وہ مِصؔر سے روانہ ہوئے اور مُلکِ کنؔعان میں اپنے باپ یعقؔوب کے پاس پہنچے۔

۲۶

اور اُس سے کہا یُوسُؔف اب تک جِیتا ہے اور وہی سارے مُلکِ مِصؔر کا حاکِم ہے اور یعقؔوب کا دِل دھک سے رہ گیا کیونکہ اُس نے اُنکا یقین نہ کِیا۔

۲۷

تب اُنہوں نے اُسے وہ سب باتیں جو یُوسُؔف نے اُن سے کہی تھِیں بتائِیں اور جب اُنکے باپ یعقؔوب نے وہ گاڑیاں دیکھ لِیں جو یُوسُؔف نے اُسکے لانے کو بھیجی تھِیں تب اُسکی جان میں جان آئی۔

۲۸

اور اِسؔرئیل کہنے لگا یہ بس ہے کہ میرا بیٹا یُوسُؔف اب تک جِیتا ہے۔ مَیں اپنے مرنے سے پیشتر جا کر اُسے دیکھ تو لُونگا۔

Views
Personal tools
Navigation
Toolbox