John 17 Urdu

From Textus Receptus

(Difference between revisions)
Jump to: navigation, search
Line 4: Line 4:
۱  
۱  
-
-یِسُوع نے یہ باتیں کہیں اور اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اُٹھاکر کہا کہ اَے باپ! وہ گھڑی آپہنچی- اپنے بیٹے کا جلال ظاہِر کرتا کہ بیٹا تیرا جلال ظاہِر کرے
+
-یِسُوؔع نے یہ باتیں کہِیں اور اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اُٹھاکر کہا کہ اَے باپ! وہ گھڑی آپُہنچی- اپنے بیٹے کا جلال ظاہِر کرتا کہ بیٹا تیرا جلال ظاہِر کرے
۲  
۲  
-
-چُنانچہ تُونے اُسے ہر بشر پر اختیار دِیا ہے تاکہ جِنہیں تُونے اُسے بخشا ہے اُن سب کو ہمیشہ کی زِندگی دے
+
-چُنانچہ تُونے اُسے ہر بشر پر اِختیار دِیا ہے تاکہ جِنہیں تُونے اُسے بخشا ہے اُن سب کو ہمیشہ کی زِندگی دے
۳  
۳  
-
-اور ہمیشہ کی زِندگی یہ ہے کہ وہ تُجھ خُدایِ واحِد اور برحق کو اور یِسُوع مسِیح کو جِسے تُونے بھیجا ہے جائیں
+
-اور ہمیشہ کی زِندگی یہ ہے کہ وہ تُجھ خُدایِ واحِد اور برحق کو اور یِسُوؔع مسِیح کو جِسے تُونے بھیجا ہے جانیں
۴  
۴  
-
-جو کام تُونے مُجھے کرنے کو دِیا تھا اُس کو تمام کرکے مَیں نے زمین پر تیرا جلال ظاہِر کیا
+
-جو کام تُونے مُجھے کرنے کو دِیا تھا اُس کو تمام کرکے مَیں نے زمِین پر تیرا جلال ظاہِر کِیا
۵  
۵  
Line 24: Line 24:
۶  
۶  
-
-مَیں نے تیرے نام کو اُن آدمیوں پر ظاہر کِیا جِنہیں تُونے دُنیا میں سے مُجھے دِیا- وہ تیرے تھے اور تُونے اُنہیں مُجھے دِیا اور اُنہوں نے تیرے کلام پر عمل کِیا ہے
+
-مَیں نے تیرے نام کو اُن آدمِیوں پر ظاہِر کِیا جِنہیں تُونے دُنیا میں سے مُجھے دِیا- وہ تیرے تھے اور تُونے اُنہیں مُجھے دِیا اور اُنہوں نے تیرے کلام پر عمل کِیا ہے
۷  
۷  
Line 32: Line 32:
۸  
۸  
-
کیونکہ جو کلام تُونے مُجھے پہنچایا وہ مَیں نے اُن کو پہنچا دِیا اور اُنہوں نے اُس کو قُبول کِیا اور سچ جان لِیا کہ مَیں تیری طرف سے نکِلا ہُوں اور وہ اِیمان لائے کہ تُوہی نے مُجھے بھیجا
+
کیونکہ جو کلام تُونے مُجھے پُہنچایا وہ مَیں نے اُن کو پُہنچا دِیا اور اُنہوں نے اُس کو قبُول کِیا اور سچ جان لِیا کہ مَیں تیری طرف سے نکِلا ہُوں اور وہ اِیمان لائے کہ تُوہی نے مُجھے بھیجا
۹  
۹  
-
-مَیں اُن کے لئِے درخواست کرتا ہُوں مَیں دُنیا کے لئِے درخواست نہیں کرتا ہُوں بلکہ اُن کے لئے جنہیں تُونے مُجھے دِیا ہے کیونکہ وہ تیرے ہیں
+
-مَیں اُن کے لئِے درخواست کرتا ہُوں مَیں دُنیا کے لئِے درخواست نہیں کرتا ہُوں بلکہ اُن کے لئے جِنہیں تُونے مُجھے دِیا ہے کیونکہ وہ تیرے ہیں
۱۰  
۱۰  
-
-اور جو کُچھ میرا ہے وہ سب تیرا ہے اور جو تیرا ہے وہ میرا ہے اور اِن سے میرا جلال ظاہِر ہُئوا ہے
+
-اور جو کُچھ میرا ہے وہ سب تیرا ہے اور جو تیرا ہے وہ میرا ہے اور اِن سے میرا جلال ظاہِر ہُؤا ہے
۱۱  
۱۱  
-
مَیں آگے کو دُنیا میں نہ ہُوں گا مگر یہ دُنیا میں ہیں اور میَں تیرے پاس آتا ہُوں- اَے قُدُّوس باپ! اپنے اُس نام کے وسیلہ سے جو تُونے مُجھے بخشا ہے اُن کی حِفاظت کرتا کہ وہ ہماری طرح ایک ہُوں
+
مَیں آگے کو دُنیا میں نہ ہُوں گا مگر یہ دُنیا میں ہیں اور میَں تیرے پاس آتا ہُوں- اَے قُدُّوس باپ! اپنے اُس نام کے وسِیلہ سے جو تُونے مُجھے بخشا ہے اُن کی حِفاظت کرتا کہ وہ ہماری طرح ایک ہُوں
۱۲  
۱۲  
-
جب تک مَیں دینا میں اُن کے ساتھ رہا مَیں نے تیرے نام کے وسیلہ سے جو تُونے مُجھے بخشا ہے اُن کی حِفاظت کی- مَیں نے اُن کی نگِہبانی کی اور ہلاکت کے فرزند کے سِوا اُن میں کوئی ہلاک نہ ہُئوا تاکہ کِتاب مُقدّس کا لِکھا پُورا ہو
+
جب تک مَیں دُینا میں اُن کے ساتھ رہا مَیں نے تیرے نام کے وسِیلہ سے جو تُونے مُجھے بخشا ہے اُن کی حِفاظت کی- مَیں نے اُن کی نِگہبانی کی اور ہلاکت کے فرزند کے سِوا اُن میں سے کوئی ہلاک نہ ہُؤا تاکہ کِتابِ مُقدّس کا لِکھا پُورا ہو
۱۳  
۱۳  
-
-لیکن اب میں تیرے پاس آتا ہُوں اور یہ باتیں دُنیا میں کہتا ہُوں تاکہ میری خُوشی اُنہیں پوری پوری حاصِل ہو
+
-لیکن اب مَیں تیرے پاس آتا ہُوں اور یہ باتیں دُنیا میں کہتا ہُوں تاکہ میری خُوشی اُنہیں پوری پوری حاصِل ہو
۱۴  
۱۴  
-
-مَیں نے تیرا کلام اُنہیں پہنچا دِیا اور دُنیا نے اُن سے عداوت رکھّی اِس لِئے کہ جِس طرح مَیں دُنیا کا نہیں وہ بھی دُنیا کے نہیں
+
-مَیں نے تیرا کلام اُنہیں پُہنچا دِیا اور دُنیا نے اُن سے عداوت رکھّی اِس لِئے کہ جِس طرح مَیں دُنیا کا نہیں وہ بھی دُنیا کے نہیں
۱۵
۱۵
-
-مَیں یہ دِرخواست نہیں کرتا کہ تُو اُنہیں دُنیا سے اُٹھالے بلکہ یہ کہ اُس شِریر سے اُن کی حِفاظت کر
+
-مَیں یہ درخواست نہیں کرتا کہ تُو اُنہیں دُنیا سے اُٹھالے بلکہ یہ کہ اُس شرِیر سے اُن کی حِفاظت کر
۱۶  
۱۶  
Line 68: Line 68:
۱۷  
۱۷  
-
-اُنہیں اپنی سچّائی کے وسیلہ سے مُقدّس کر- تیرا کلام سچائی ہے
+
-اُنہیں اپنی سچّائی کے وسِیلہ سے مُقدّس کر- تیرا کلام سچائی ہے
۱۸  
۱۸  
Line 76: Line 76:
۱۹  
۱۹  
-
-اور اُن کی خاطِر مَیں اپنے آپ کو مُقدّس کرتا ہُوں تاکہ وہ بھی سچّائی کے وسیلہ سے مُقدّس کئِے جائیں
+
-اور اُن کی خاطِر مَیں اپنے آپ کو مُقدّس کرتا ہُوں تاکہ وہ بھی سچّائی کے وسِیلہ سے مُقدّس کئِے جائیں
۲۰  
۲۰  
-
-مَیں صِرف اِن ہی کے لئے درخواست نہیں کرتا بلکہ اُن کے لئِے بھی جو اِن کے کلام کے وسیلہ سے مُجھ پر اِیمان لائیں گے
+
-مَیں صِرف اِن ہی کے لِئے درخواست نہیں کرتا بلکہ اُن کے لئِے بھی جو اِن کے کلام کے وسِیلہ سے مُجھ پر اِیمان لائیں گے
۲۱  
۲۱  
-
-تاکہ سب ایک ہوں یعنی جِس طرح اَے باپ! تُو مُجھ میں ہے اور مَیں تُجھ میں ہُوں وہ بھی ہم میں ہوں اور دُنیا اِیمان لائے کہ تُوہی نے مُجھے بھیجا
+
-تاکہ وہ سب ایک ہوں یعنی جِس طرح اَے باپ! تُو مُجھ میں ہے اور مَیں تُجھ میں ہُوں وہ بھی ہم میں ہوں اور دُنیا اِیمان لائے کہ تُوہی نے مُجھے بھیجا
۲۲  
۲۲  
-
-اور وہ جلال جو تُونے مُجھے دِیا ہے مَیں نے اُنہیں دِیا ہے تاکہ وہ ایک ہوں جِیسے ہم ایک ہیں
+
-اور وہ جلال جو تُونے مُجھے دِیا ہے مَیں نے اُنہیں دِیا ہے تاکہ وہ ایک ہوں جَیسے ہم ایک ہیں
۲۳  
۲۳  
-
-مَیں اُن میں اور تُو مُجھ میں تاکہ وہ کامِل ہوکر ایک ہوجائیں اور دُنیا جانے کہ تُوہی نے مُجھے بھیجا اور جِس طرح کہ تُونے مُجھ سے محبّت رکھّی
+
مَیں اُن میں اور تُو مُجھ میں تاکہ وہ کامِل ہوکر ایک ہوجائیں اور دُنیا جانے کہ تُوہی نے مُجھے بھیجا اور جِس طرح کہ تُونے مُجھ سے مُحبّت رکھّی
 +
اُن سے بھی مُحبّت رکھّی
۲۴  
۲۴  
-
اَے باپ! میں جانتا ہُوں کہ جنہیں تُونے مُجھے دِیا ہے جہاں مَیں ہُوں وہ بھی میرے ساتھ ہوں تاکہ میرے اُس جلال کو دیکھیں جو تُونے مُجھے دِیا ہے کیونکہ تُونے بِنایِ عالَم سے پیشتر مُجھ سے محبّت رکھّی
+
اَے باپ! مَیں جانتا ہُوں کہ جِنہیں تُونے مُجھے دِیا ہے جہاں مَیں ہُوں وہ بھی میرے ساتھ ہوں تاکہ میرے اُس جلال کو دیکھیں جو تُونے مُجھے دِیا ہے کیونکہ تُونے بنایِ عالَم سے پیشتر مُجھ سے مُحبّت رکھّی
۲۵
۲۵
-
-اَے عادِل باپ! دُنیا نے تو تجھے نہیں جانا مگر مَیں نے تُجھے جانا اور اُنہوں نے بھی جانا کہ تُونے مُجھے بھیجا
+
-اَے عادِل باپ! دُنیا نے تو تُجھے نہیں جانا مگر مَیں نے تُجھے جانا اور اُنہوں نے بھی جانا کہ تُونے مُجھے بھیجا
۲۶  
۲۶  
-
-اور مَیں نے اُنہیں تیرے نام سے واقِف کِیا اور کرتا رُہوں گا تاکہ جو محبّت تُجھ کو مُجھ سے تھی وہ اُن میں ہو اور میَں اُن میں ہُوں </span></div></big>
+
-اور مَیں نے اُنہیں تیرے نام سے واقف کِیا اور کرتا رُہوں گا تاکہ جو مُحبّت تُجھ کو مُجھ سے تھی وہ اُن میں ہو اور میَں اُن میں ہُوں </span></div></big>

Revision as of 10:32, 10 October 2016

۱

-یِسُوؔع نے یہ باتیں کہِیں اور اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اُٹھاکر کہا کہ اَے باپ! وہ گھڑی آپُہنچی- اپنے بیٹے کا جلال ظاہِر کرتا کہ بیٹا تیرا جلال ظاہِر کرے

۲

-چُنانچہ تُونے اُسے ہر بشر پر اِختیار دِیا ہے تاکہ جِنہیں تُونے اُسے بخشا ہے اُن سب کو ہمیشہ کی زِندگی دے

۳

-اور ہمیشہ کی زِندگی یہ ہے کہ وہ تُجھ خُدایِ واحِد اور برحق کو اور یِسُوؔع مسِیح کو جِسے تُونے بھیجا ہے جانیں

۴

-جو کام تُونے مُجھے کرنے کو دِیا تھا اُس کو تمام کرکے مَیں نے زمِین پر تیرا جلال ظاہِر کِیا

۵

-اور اب اَے باپ! تُو اُس جلال سے جو میَں دُنیا کی پَیدایش سے پیشتر تیرے ساتھ رکھتا تھا مُجھے اپنے ساتھ جلالی بنادے

۶

-مَیں نے تیرے نام کو اُن آدمِیوں پر ظاہِر کِیا جِنہیں تُونے دُنیا میں سے مُجھے دِیا- وہ تیرے تھے اور تُونے اُنہیں مُجھے دِیا اور اُنہوں نے تیرے کلام پر عمل کِیا ہے

۷

-اب وہ جان گئے کہ جو کُچھ تُونے مُجھے دِیا ہے وہ سب تیری ہی طرف سے ہے

۸

کیونکہ جو کلام تُونے مُجھے پُہنچایا وہ مَیں نے اُن کو پُہنچا دِیا اور اُنہوں نے اُس کو قبُول کِیا اور سچ جان لِیا کہ مَیں تیری طرف سے نکِلا ہُوں اور وہ اِیمان لائے کہ تُوہی نے مُجھے بھیجا

۹

-مَیں اُن کے لئِے درخواست کرتا ہُوں مَیں دُنیا کے لئِے درخواست نہیں کرتا ہُوں بلکہ اُن کے لئے جِنہیں تُونے مُجھے دِیا ہے کیونکہ وہ تیرے ہیں

۱۰

-اور جو کُچھ میرا ہے وہ سب تیرا ہے اور جو تیرا ہے وہ میرا ہے اور اِن سے میرا جلال ظاہِر ہُؤا ہے

۱۱

مَیں آگے کو دُنیا میں نہ ہُوں گا مگر یہ دُنیا میں ہیں اور میَں تیرے پاس آتا ہُوں- اَے قُدُّوس باپ! اپنے اُس نام کے وسِیلہ سے جو تُونے مُجھے بخشا ہے اُن کی حِفاظت کرتا کہ وہ ہماری طرح ایک ہُوں

۱۲

جب تک مَیں دُینا میں اُن کے ساتھ رہا مَیں نے تیرے نام کے وسِیلہ سے جو تُونے مُجھے بخشا ہے اُن کی حِفاظت کی- مَیں نے اُن کی نِگہبانی کی اور ہلاکت کے فرزند کے سِوا اُن میں سے کوئی ہلاک نہ ہُؤا تاکہ کِتابِ مُقدّس کا لِکھا پُورا ہو

۱۳

-لیکن اب مَیں تیرے پاس آتا ہُوں اور یہ باتیں دُنیا میں کہتا ہُوں تاکہ میری خُوشی اُنہیں پوری پوری حاصِل ہو

۱۴

-مَیں نے تیرا کلام اُنہیں پُہنچا دِیا اور دُنیا نے اُن سے عداوت رکھّی اِس لِئے کہ جِس طرح مَیں دُنیا کا نہیں وہ بھی دُنیا کے نہیں

۱۵

-مَیں یہ درخواست نہیں کرتا کہ تُو اُنہیں دُنیا سے اُٹھالے بلکہ یہ کہ اُس شرِیر سے اُن کی حِفاظت کر

۱۶

-جِس طرح مَیں دُنیا کا نہیں وہ بھی دُنیا کے نہیں

۱۷

-اُنہیں اپنی سچّائی کے وسِیلہ سے مُقدّس کر- تیرا کلام سچائی ہے

۱۸

-جِس طرح تُونے مُجھے دُنیا میں بھیجا اُسی طرح مَیں نے بھی اُنہیں دُنیا میں بھیجا

۱۹

-اور اُن کی خاطِر مَیں اپنے آپ کو مُقدّس کرتا ہُوں تاکہ وہ بھی سچّائی کے وسِیلہ سے مُقدّس کئِے جائیں

۲۰

-مَیں صِرف اِن ہی کے لِئے درخواست نہیں کرتا بلکہ اُن کے لئِے بھی جو اِن کے کلام کے وسِیلہ سے مُجھ پر اِیمان لائیں گے

۲۱

-تاکہ وہ سب ایک ہوں یعنی جِس طرح اَے باپ! تُو مُجھ میں ہے اور مَیں تُجھ میں ہُوں وہ بھی ہم میں ہوں اور دُنیا اِیمان لائے کہ تُوہی نے مُجھے بھیجا

۲۲

-اور وہ جلال جو تُونے مُجھے دِیا ہے مَیں نے اُنہیں دِیا ہے تاکہ وہ ایک ہوں جَیسے ہم ایک ہیں

۲۳

مَیں اُن میں اور تُو مُجھ میں تاکہ وہ کامِل ہوکر ایک ہوجائیں اور دُنیا جانے کہ تُوہی نے مُجھے بھیجا اور جِس طرح کہ تُونے مُجھ سے مُحبّت رکھّی اُن سے بھی مُحبّت رکھّی

۲۴

اَے باپ! مَیں جانتا ہُوں کہ جِنہیں تُونے مُجھے دِیا ہے جہاں مَیں ہُوں وہ بھی میرے ساتھ ہوں تاکہ میرے اُس جلال کو دیکھیں جو تُونے مُجھے دِیا ہے کیونکہ تُونے بنایِ عالَم سے پیشتر مُجھ سے مُحبّت رکھّی

۲۵

-اَے عادِل باپ! دُنیا نے تو تُجھے نہیں جانا مگر مَیں نے تُجھے جانا اور اُنہوں نے بھی جانا کہ تُونے مُجھے بھیجا

۲۶

-اور مَیں نے اُنہیں تیرے نام سے واقف کِیا اور کرتا رُہوں گا تاکہ جو مُحبّت تُجھ کو مُجھ سے تھی وہ اُن میں ہو اور میَں اُن میں ہُوں
Personal tools