Acts 14 Urdu

From Textus Receptus

Revision as of 14:51, 23 June 2016 by Erasmus (Talk | contribs)
(diff) ←Older revision | Current revision (diff) | Newer revision→ (diff)
Jump to: navigation, search

۱

-اور اکُنُِیم میں اَیسا ہُئوا کہ وہ ساتھ ساتھ یہُودِیوں کے عِبادت خانہ میں گئے اور اَیسی تقرِیر کی کہ یہُودِیوں اور یُونانِیوں دونوں کی ایک بڑی جماعت اِیمان لے آئی

۲

-مگر نافرمان یہُودِیوں نے غَیر قَوموں کے دِلوں میں جوش پَیدا کرکے اُن کو بھائیوں کی طرف بدگُمان کردِیا

۳

پس وہ بہُت عرصہ تک وہاں رہے اور خُداوند کے بھروسے پر دِلیری سے کلام کرتے تھے اور وہ اُن کے ہاتھوں سے نِشان اور عجِیب کام کرا کر اپنے فضل کے کلام کی گواہی دیتا تھا

۴

-لیکن شہر کے لوگوں میں پُھوٹ پڑگئی۔ بعض یہُودِیوں کی طرف ہوگئے اور بعض رسُولوں کی طرف

۵

-مگر جب غَیر قَوم والے اور یہُودی اُنہیں بیعّزِت اور سنگسار کرنے کو اپنے سرداروں سمیت اُن پر چڑھ آئے

۶

-تو وہ اِس سے واقِف ہوکر لُکااُنیہ کے شہروں لُسترہ اور دِربے اور اُن کے گِردونواح میں بھاگ گئے

۷

-اور وہاں خُوشخبری سُناتے رہے

۸

-اور لُسترہ میں ایک شخص بَیٹھا تھا جو پاؤں سے لاچار تھا۔ وہ جنم کا لنگڑا تھا اور کبھی نہ چلا تھا

۹

-وہ پَولُس کو باتیں کرتے سُن رہا تھا اور جب اِس نے اُس کی طرف غَور کرکے دیکھا کہ اُس میں شِفا پانے کے لائِق اِیمان ہے

۱۰

-تو بڑی آواز سے کہا اپنے پاؤں کے بل سِیدھا کھڑا ہوجا۔ پس وہ اُچھل کر چلنے پھِرنے لگا

۱۱

-لوگوں نے پَولُس کا یہ کام دیکھ کر لُکااُنیہ کی بولی میں بُلند آواز سے کہا کہ آدمیوں کی صُورت میں دیوتا اُتر کر ہمارے پاس آئے ہیں

۱۲

-اور اُنہوں نے برنباس کو زِیُوس کہا اور پَولُس کو ہرمِیس۔ اِس لِئے کہ یہ کلام کرنے میں سبقت رکھتا تھا

۱۳

-اور زِیُوس کے اُس مندر کا پُجاری جو اُن کے شہر کے سامنے تھا بَیل اور پھُولوں کے ہار پھاٹک پر لاکر لوگوں کے ساتھ قُربانی کرنا چاہتا تھا

۱۴

-جب برنباس اور پَولُس رسُولوں نے یہ سُنا تو اپنے کپڑے پھاڑ کر لوگوں میں جاکُودے اور پُکار پُکار کر

۱۵

کہنے لگے کہ لوگو ! تُم یہ کیا کرتے ہو؟ ہم بھی تُمہارے ہم طبِیت اِنسان ہیں اور تُمہیں خُوشخبری سُناتے ہیں تاکہ اِن باطِل چِیزوں سے کِنارہ کرکے اُس زِندہ خُدا کی طرف پھِرو جِس نے آسمان اور زمِین اور سُمندر اور جو کُچھ اُن میں ہے پَیدا کِیا

۱۶

-اُس نے اگلے زمانہ میں سب قَوموں کو اپنی اپنی راہ چلنے دِیا
Personal tools