1 Samuel 28 Urdu

From Textus Receptus

Jump to: navigation, search
28 سموئیل-۱

۱

اور اُن ہی دِنوں میں اَیسا ہُئوا کہ فِلسِتیوں نے اپنی فَوجیں جنگ کے لئِے جمع کِیں تاکہ اِسرائؔیل سے لڑیں اور اکِؔیس نے داؤُؔد سے کہا تُو یقِین جان کہ تُجھے اور تیرے لوگوں کو لشکر میں ہو کر میرے ساتھ جانا ہوگا۔

۲

اور داؤُؔد نے اکِیؔس سے کہا پھِر جو کُچھ تیرا خادِم کریگا وہ تُجھے معلُوم بھی ہو جائیگا۔ اکِؔیس نے داؤُؔد سے کہا پھِر تو سدا کے لئِے تُجھ کو مَیں اپنے سر کا نِگہبان ٹھہراؤُنگا۔

۳

اور سؔموئیل مَر چُکا تھا اور سب اِسرائیلِیوں نے اُس پر نَوحہ کرکے اُسے اُسکے شہر راؔمہ میں دفن کِیا تھا اور ساؤُؔل نے جِنّات کے آشناؤں اور افسُون گروں کو مُلک سے خارِج کر دِیا تھا۔

۴

اور فِلستی جمع ہُوئے اور آ کر شُؔونِیم میں ڈیرے ڈالے اور ساؤُؔل نے بھی سب اِسرائیلِیوں کو جمع کِیا اور وہ جِلؔبوہ میں خَیمہ زن ہُوئے۔

۵

اور جب ساؤُؔل نے فِلسِتیوں کا لشکر دیکھا تو ہِراسان ہُئوا اور اُسکا دِل بُہت کانپنے لگا۔

۶

اور جب ساؤُؔل نے خُداوند سے سوال کِیا تو خُداوند نے اُسے نہ تو خوابوں اور نہ اُوریم اورنہ نِبیوں کے وسِیلہ سے کوئی جواب دِیا۔

۷

تب ساؤُؔل نے اپنے مُلازِموں سے کہا کوئی اَیسی عَورت میرے لئِے تلاش کرو جِسکا آشنا جِنّ ہو تاکہ مَیں اُسکے پاس جا کر اُس سے پُوچُھوں۔ اُسکے مُلازِموں نے اُس سے کہا دیکھ عَؔین دور میں ایک عَورت ہے جِسکا آشنا جِنّ ہے۔

۸

سو ساؤُؔل نے اپنا بھیس بدل کر دُوسری پوشاک پہنی اور دو آدمِیوں کو ساتھ لیکر چلا اور وہ رات کو اُس عَورت کے پاس آئے اور اُس نے کہا ذرا میری خاطِر جِنّ کے ذرِیعہ سے میرا فال کھول اور جِسکا نام مَیں تُجھے بتاؤُں اُسے اُوپر بُلا دے۔

۹

تب اُس عَورت نے اُس سے کہا دیکھ تُو جانتا ہے کہ ساؤُؔل نے کیا کِیا کہ اُس نے جِنّات کے آشناؤں اور افسُون گروں کو مُلک سے کاٹ ڈالا ہے۔ پس تُو کیوں میری جان کے لئِے پھندا لگاتا ہے تا کہ مُجھے مَروا ڈالے؟۔

۱۰

تب ساؤُؔل نے خُداوند کی قَسم کھا کر کہا کہ خُداوند کی حیات کی قَسم اِس بات کے لئِے تُجھے کوئی سزا نہیں دی جائیگی۔

۱۱

تب اُس عَورت نے کہا مَیں کِس کو تیرے لئِے اُوپر بُلا دُوں؟ اُس نے کہا سؔموئیل کو میرے لئِے بُلا دے۔

۱۲

جب اُس عَورت نے سؔموئیل کو دیکھا تو بُلند آواز سے چِلّائی اور اُس عَورت نے ساؤُؔل سے کہا تُو نے مُجھ سے کیوں دغا کی کیونکہ تُو تو ساؤُؔل ہے؟۔

۱۳

تب بادشاہ نے اُس سے کہا ہِراسان مت ہو۔ تُجھے کیا دِکھائی دیتا ہے؟ اُس نے ساؤُؔل سے کہا مُجھے ایک دیوتا زمِین سے اُوپر آتے دِکھائی دیتا ہے۔

۱۴

تب اُس نے اُس سے کہا اُسکی شکل کَیسی ہے؟ اُس نے کہا ایک بُڈّھا اُوپر کو آرہا ہے اور جُبہّ پہنے ہے۔ تب ساؤُؔل جان گیا کہ وہ سؔموئیل ہے اور اُس نے مُنہ کے بل گِر کر زمِین سِجدہ کِیا۔

۱۵

سؔموئیل نے ساؤُؔل سے کہا تُو نے کیوں مُجھے بے چَین کِیا کہ مُجھے اُوپر بُلوایا؟ ساؤُؔل نے جواب دِیا مَیں سخت پریشان ہُوں کیونکہ فِلستی مُجھ سے لڑتے ہیں اور خُدا مُجھ سے الگ ہو گیا ہے اور نہ تو نِبیوں اور نہ خوابوں کے وسِیلہ سے مُجھے جواب دیتا ہے اِسلئِے مَیں نے تُجھے بُلایا تاکہ تُو مُجھے بتائے کہ مَیں کیا کرُوں۔

۱۶

سؔموئیل نے کہا پس تُو مُجھ سے کِس لئِے پُوچھتا ہے جِس حال کہ خُداوند تُجھ سے الگ ہو گیا اور تیرا دُشمن بنا ہے؟۔

۱۷

اور خُداوند نے جَیسا میری معرفت کہا تھا وَیسا ہی کِیا ہے۔ خُداوند نے تیرے ہاتھ سے سلطنت چاک کر لی اور تیرے پڑوسی داؤُؔد کو عِنایت کی ہے۔

۱۸

اِسلئِے کہ تُو نے خُداوند کی بات نہیں مانی اور عمالِیقِیوں سے اُسکے قہرِ شدِید کے مُوافِق پیش نہیں آیا اِسی سبب سے خُداوند نے آج کے دِن تُجھ سے یہ برتاؤ کِیا۔

۱۹

ماسِوا اِسکے خُداوند تیرے ساتھ اِسرائیلِیوں کو بھی فِلسِتیوں کے ہاتھ میں کردیگا اور کل تُو اور تیرے بیٹے میرے ساتھ ہو گے اور خُداوند اِسرائیلی لشکر کو بھی فِلسِتیوں کے ہاتھ میں کردیگا۔

۲۰

تب ساؤُؔل فَوراً زمِین پر لمبا ہو کر گِرا اور سؔموئیل کی باتوں کے سبب سے نِہایت ڈر گیا اور اُس میں کُچھ قُوّت باقی نہ رہی کیونکہ اُس نے اُس سارے دِن اور ساری رات روٹی نہیں کھائی تھی۔

۲۱

تب وہ عَورت ساؤُؔل کے پاس آئی اور دیکھا کہ وہ نِہایت پریشان ہے۔ سو اُس نے اُس سے کہا دیکھ تیری لَونڈی نے تیری بات مانی اور مَیں نے اپنی جان اپنی ہتھیلی پر رکھّی اور جو باتیں تُو نے مُجھ سے کہِیں مَیں نے اُنکو مانا ہے۔

۲۲

سو اب مَیں تیری مِنّت کرتی ہُوں کہ تُو اپنی لَونڈی کی بات سُن اور مُجھے اِجازت دے کہ روٹی کا ٹُکڑا تیرے آگے رکھّوں۔ تُو کھا تا کہ جب تُو اپنی راہ لے تو تُجھے طاقت مِلے۔

۲۳

پر اُس نے اِنکار کِیا اور کہا کہ مَیں نہیں کھاؤُنگا لیکن اُسکے مُلازِم اُس عَورت کے ساتھ ملکر اُس سے بجِد ہُوئے۔ تب اُس نے اُنکا کہا مانا اور زمِین پر سے اُٹھ کر پلنگ پر بَیٹھ گیا۔

۲۴

اُس عَورت کے گھر میں ایک موٹا بچھڑا تھا۔ سو اُس نے جلدی کی اور اُسے ذبح کِیا اور آٹا لیکر گُوندھا اور بے خِمیری روٹِیاں پکائِیں۔

۲۵

اور اُنکو ساؤُؔل اور اُسکے مُلازِموں کے آگے لائی اور اُنہوں نے کھایا۔ تب وہ اُٹھے اور اُسی رات چلے گئے۔

Views
Personal tools
Navigation
Toolbox