1 Samuel 21 Urdu

From Textus Receptus

Jump to: navigation, search
21 سموئیل-۱

۱

اور داؤُؔد نؔوب میں اخِیملؔک کاہِن کے پاس آیا اور اخِیملؔک داؤُؔد سے مِلنے کو کانپتا ہُئوا آیا اور اُس سے کہا تُو کیوں اکیلا ہے اور تیرے ساتھ کوئی آدمی نہیں؟۔

۲

داؤُؔد نے اخِیملؔک کاہِن سے کہا کہ بادشاہ نے مُجھے ایک کام کا حُکم کر کے کہا ہے کہ جِس کرم پر مَیں تُجھے بھیجتا ہُوں اور جو حُکم مَیں نے تُجھے دِیا ہے وہ کِسی شخص پر ظاہِر نہ ہو۔ سو مَیں نے جوانوں کو فُلاں فُلاں جگہ بِٹھا دِیا ہے۔

۳

پس اب تیرے ہاں کیا ہے؟ میرے ہاتھ میں روٹِیوں کے پانچ گِردے یا جو کُچھ مَوجُود ہو دے۔

۴

کاہِن نے داؤُؔد کو جواب دِیا میرے ہاں عام روٹیاں تو نہیں پر مُقدّس روٹیاں ہیں بشرطیکہ وہ جوان عَورتوں سے الگ رہے ہوں۔

۵

داؤُؔد نے کاہِن کو جواب دِیا سچ تو یہ ہے کہ تِین دِن سے عَورتیں ہم سے الگ رہی ہیں اور اگرچہ یہ معمُولی سفر ہے تَو بھی جب مَیں چلا تھا تب اِن جوانوں کے برتن پاک تھے تو آج تو ضرُور ہی وہ برتن پاک ہونگے۔

۶

تب کاہِن نے مُقدّس روٹی اُسکو دی کیونکہ اَور روٹی وہاں نہیں تھی۔ فقط نذر کی روٹی تھی جو خُداوند کے آگے سے اُٹھائی گئی تھی تاکہ اُسکے عِوض اُس دِن جب وہ اُٹھائی جائے گرم روٹی رکھّی جائے۔

۷

اور وہاں اُس دِن ساؤُؔل کے خادِموں میں سے ایک شخص خُداوند کے آگے رُکا ہُئوا تھا۔ اُسکا نام ادومی دوؔئیگ تھا۔ یہ ساؤُؔل کے چرواہوں کا سردار تھا۔

۸

پھِر داؤُؔد نے اخِیملؔک سے پُوچھا کیا یہاں تیرے پاس کوئی نیزہ یا تلوار نہیں؟ کیونکہ مَیں اپنی تلوار اور اپنے ہتھیار اپنے ساتھ نہیں لایا کیونکہ بادشاہ کے کام کی جلدی تھی۔

۹

اُس کاہِن نے کہا کہ فِلستی جولؔیت کی تلوار جِسے تُو نے اؔیلاہ کی وادی میں قتل کِیا کپڑے میں لِپٹی ہُوئی افُود کے پِیچھے رکھّی ہے۔ اگر تُو اُسے لینا چاہتا ہے تو لے۔ اُسکے سِوا یہاں کوئی اَور نہیں ہے۔ داؤُؔد نے کہا وَیسی تو کوئی ہے ہی نہیں۔ وُہی مُجھے دے۔

۱۰

اور داؤُؔد اُٹھا اور ساؤُؔل کے خَوف سے اُسی دِن بھاگا اور جاؔت کے بادشاہ اکِؔیس کے پاس چلا گیا۔

۱۱

اور اکِؔیس کے مُلازِموں نے اُس سے کہا کیا یِہی اُس مُلک کا بادشاہ داؤُؔد نہیں؟ کیا اِسی کے بارہ میں ناچتے وقت گا گا کر اُنہوں نے آپس میں نہیں کہا تھا کہ ساؤُؔل نے تو ہزاروں کو پر داؤُؔد نے لاکھوں کو مارا؟۔

۱۲

داؤُؔد نے یہ باتیں اپنے دِل میں رکِھّیں اور جاؔت کے بادشاہ اکِؔیس سے نِہایت ڈرا۔

۱۳

سو وہ اُنکے آگے دُوسری چال چلا اور اُنکے ہاتھ پڑ کر اپنے کو دِیوانہ سا بنا لِیا اور پھاٹک کے کواڑوں پر لکِیرٰیں کھینچنے اور اپنے تُھوک کو اپنی داڑھی پر بہانے لگا۔

۱۴

تب اکِؔیس نے اپنے نَوکروں سے کہا لو یہ آدمی تو سِڑی ہے۔ تُم اُسے میرے پاس کیوں لائے؟۔

۱۵

کیا مُجھے سِڑیوں کی ضرُورت ہے جو تُم اُسکو میرے پاس لائے ہو کہ میرے سامنے سِڑی پن کرے؟ کیا اَیسا آدمی میرے گھر میں آنے پائیگا؟۔

Views
Personal tools
Navigation
Toolbox