1 Kings 2 Urdu

From Textus Receptus

Jump to: navigation, search
2 سلاطِین-۱

۱

اور داؤُؔد کے مَرنے کے دِن نزدِیک آئے۔ سو اُس نے اپنے بیٹے سُلؔیمان کو وصِیّت کی اور کہا کہ۔

۲

مَیں اُسی راستہ جانے والا ہُوں جو سارے جہان کا ہے۔ اِس لئِے تُو مضبُوط ہو اور مَردانگی دِکھا۔

۳

اور جو مُؔوسیٰ کی شرِیعت میں لِکھا ہے اُسکے مُطابِق خُداوند اپنے خُدا کی ہِدایت کو مانکر اُسکی راہوں پر چل اور اُسکے آئِین پر اور اُس کے فرمانوں اور حُکموں اور شہادتوں پر عمل کر تا کہ جو کُچھ تُو کرے اور جہاں کہِیں تُو جائے سب میں تُجھے کامیابی ہو۔

۴

اور خُداوند اپنی اُس بات کو قائِم رکھّے جو اُس نے میرے حق میں کہی کہ اگر تیری اَولاد اپنے طرِیق کی حِفاظت کر کے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان سے میرے حضُور راستی سے چلے تو اِسؔرائیل کے تخت پر تیرے ہاں آدمی کی کمی نہ ہو گی۔

۵

اور تُو آپ جانتا ہے کہ ضؔرویاہ کے بیٹے یُؔوآب نے مُجھ سے کیا کیا کِیا یعنی اُس نے اِسرائیلی لشکر کے دو سرداروں نؔیر کے بیٹے ابنؔیر اور یتؔر کے بیٹے عماؔسا سے کیا کِیا جِنکو اُس نے قتل کِیا اور صُلح کے وقت خُونِ جنگ بہایا اور خُونِ جنگ کو اپنے پٹکے پر جو اُسکی کمر میں بندھا تھا اور اپنی جُوتیوں پر جو اُسکے پاؤں میں تھِیں لگایا۔

۶

سو تُو اپنی حِکمت سے کام لینا اور اُسکے سفید سر کو قبر میں سلامت اُترنے نہ دینا۔

۷

پر برزِلّؔی جِلعادی کے بیٹوں پر مِہربانی کرنا اور وہ اُن میں شامِل ہوں جو تیرے درسترخوان پر کھانا کھایا کریں گے کیونکہ وہ اَیسا ہی کرنے کو میرے پاس آئے جب مَیں تیرے بھائی ابی سلؔوم کے سبب سے بھاگا تھا۔

۸

اور دیکھ بِنیمِینی جؔیرا کا بیٹا بحُوریمی سِمعؔی تیرے ساتھ ہے جِس نے اُس دِن جب کہ مَیں محناؔیم کو جاتا تھا بُہت بُری طرح مُجھ پر لَعنت کی پر وہ یَؔردن پر مُجھ سے مِلنے کو آیا اور مَیں نے خُداوند کی قَسم کھا کر اُس سے کہا کہ مَیں تُجھے تلوار سے قتل نہیں کرُونگا۔

۹

سو تُو اُسکو بے گُناہ نہ ٹھہرانا کیونکہ تُو عاقِل مَرد ہے اور تُو جانتا ہے کہ تُجھے اُس کے ساتھ کیا کرنا چاہئے۔ پس تُو اُسکا سفید سر لہُولُہان کر کے قبر میں اُتارنا۔

۱۰

اور داؤُؔد اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور داؤُؔد کے شہر میں دفن ہُئوا۔

۱۱

اور کُل مُدّت جِس میں داؤُؔد نے اِسؔرائیل پر سلطنت کی چالِیس برس کی تھی۔ سات برس تو اُس نے حبرُؔون میں سلطنت کی اور تَینتِیس برس یروشلؔیِم میں۔

۱۲

اور سُلؔیمان اپنے باپ داؤُؔد کے تخت پر بَیٹھا اور اُسکی سلطنت نِہایت مُستحکم ہُوئی۔

۱۳

تب حِجّؔیت کا بیٹا ادُؔونیّاہ سُلؔیمان کی ماں بت سؔبع کے پاس آیا۔ اُس نے پُوچھا تُو صُلح کے خیال سے آیا ہے؟ اُس نے کہا صُلح کے خیال سے۔

۱۴

پھِر اُس نے کہا مُجھے تُجھ سے کُچھ کہنا ہے۔ اُس نے کہا کہہ۔

۱۵

اُس نے کہا تُو جانتی ہے کہ سلطنت میری تھی اور سب اِسرائیلی میری طرف مُتوجّہِ تھے کہ مَیں سلطنت کرُوں لیکن سلطنت پلٹ گئی اور میرے بھائی کی ہو گئی کیونکہ خُداوند کی طرف سے یہ اُسی کی تھی۔

۱۶

سو میری تُجھ سے ایک درخواست ہے۔ نا منظُور نہ کر۔ اُس نے کہا بیان کر۔

۱۷

اُس نے کہا ذرا سُلؔیمان بادشاہ سے کہہ کیونکہ وہ تیری بات کو نہیں ٹلیگا کہ اَبؔی شاگ شُونِمیت کو مُجھے بیاہ دے۔

۱۸

بت سؔبع نے کہا اچھّا مَیں تیرے لئِے بادشاہ سے عرض کرُونگی۔

۱۹

پس بت سؔبع سُلؔیمان بادشاہ کے پاس گئی تاکہ اُس سے ادُؔونیّاہ کے لئِے عرض کرے۔ بادشاہ اُسکے اِستِقبال کے واسطے اُٹھا اور اُس کے سامنے جُھکا۔ پِھر اپنے تخت پر بَیٹھا اور اُس نے بادشاہ کی ماں کے لئِے ایک تخت لگوایا۔ سو وہ اُسکے دہنے ہاتھ بَیٹھی۔

۲۰

اور کہنے لگی میری تُجھ سے ایک چھوٹی سی درخواست ہے۔ تُو مُجھ سے اِنکار نہ کرنا۔ بادشاہ نے اُس سے کہا اَے میری ماں! اِرشاد فرما مُجھے تُجھ سے اِنکار نہ ہو گا۔

۲۱

اُس نے کہا اَبؔی شاگ شُونِمیت تیرے بھائی ادُؔونیّاہ کو بیاہ دی جائے۔

۲۲

سُلؔیمان بادشاہ نے اپنی ماں کو جواب دِیا کہ تُو اَبؔی شاگ شُونِمیت ہی کو ادُؔونیّاہ کے لئِے کیوں مانگتی ہے؟ اُس کے لئِے سلطنت بھی مانگ کیونکہ وہ تو میرا بڑا بھائی ہے بلکہ اُسی کے لئِے کیا ابیاؔتر کاہِن اور ضؔرویاہ کے بیٹے یُؔوآب کے لئِے بھی مانگ۔

۲۳

تب سُلؔیمان بادشاہ نے خُداوند کی قَسم کھائی اور کہا کہ اگر ادُؔونیّاہ نے یہ بات اپنی ہی جان کے خِلاف نہیں کہی تو خُدا مُجھ سے اَیسا ہی بلکہ اِس سے بھی زِیادہ کرے۔

۲۴

سو اب خُداوند کی حیات کی قَسم جِس نے مُجھ کو قیام بخشا اور مُجھ کو میرے باپ داؤُؔد کے تخت پر بِٹھایا اور میرے لئِے اپنے وعدہ کے مُطابِق ایک گھر بنایا یقِیناََ ادُؔونیّاہ آج ہی قتل کِیا جائے گا۔

۲۵

اور سُلؔیمان بادشاہ نے یہؔویدع کے بیٹے بناؔیاہ کو بھیجا۔ اُس نے اُس پر اَیسا وار کِیا کہ وہ مَر گیا۔

۲۶

پھِر بادشاہ نے ابیاؔتر کاہِن سے کہا تُو عنتؔوت کو اپنے کھیتوں میں چلا جا کیونکہ تُو واجِبُ القتل ہے پر مَیں اِس وقت تُجھ کو قتل نہیں کرتا کیونکہ تُو میرے باپ داؤُؔد کے سامنے خُداوند یہؔوواہ کا صندُوق اُٹھایا کرتا تھا اور جو جو مُصِیبت میرے باپ پر آئی وہ تُجھ پر بھی آئی۔

۲۷

سو سُلؔیمان نے ابیاؔتر کو خُداوند کے کاہِن کے عُہدہ سے برطرف کِیا تاکہ وہ خُداوند کے اُس قَول کو پُورا کرے جو اُس نے سَؔیلا میں عؔیلی کے گھرانے کے حق میں کہا تھا۔

۲۸

اور یہ خبر یُؔوآب تک پُہنچی کیونکہ یُؔوآب ادُؔونیّاہ کا تو پَیرو ہو گیا تھا گو وہ ابی سلؔوم کا پَیرو نہیں ہُئوا تھا۔ سو یُؔوآب خُداوند کے خَیمہ کو بھاگ گیا اور مذبح کے سِینگ پکڑ لئِے۔

۲۹

اور سُلؔیمان بادشاہ کو خبر ہُوئی کہ یُؔوآب خُداوند کے خَیمہ کو بھاگ گیا ہے اور دیکھ وہ مذبح کے پاس ہے۔ تب سُلؔیمان نے یہؔویدع کے بیٹے بِناؔیاہ کو یہ کہہ کر بھیجا کہ جا کر اُس پر وار کر۔

۳۰

سو بِناؔیاہ خُداوند کے خَیمہ کو گیا اور اُس نے اُس سے کہا بادشاہ یُوں فرماتا ہے کہ تُو باہر نِکل آ۔ اُس نے کہا نہیں بلکہ مَیں یہِیں مرُونگا۔ تب بِناؔیاہ نے لَوٹ کر بادشاہ کو خبر دی کہ یُؔوآب نے یُوں کہا ہے اور اُس نے مُجھے یُوں جواب دِیا۔

۳۱

تب بادشاہ نے اُس سے کہا جَیسا اُس نے کہا وَیسا ہی کر اور اُس پر وار کر اور اُسے دفن کر دے تاکہ تُو اُس خُون کو جو یُؔوآب نے بے سبب بہایا مُجھ پر سے اور میرے باپ کے گھر پر سے دُور کر دے۔

۳۲

اور خُداوند اُسکا خُون اُلٹا اُسی کے سر پر لائیگا کیونکہ اُس نے دو شخصوں پر جو اُس سے زِیادہ راستباز اور اچھّے تھے یعنی نؔیر کے بیٹے ابنؔیر پر جو اِسرائیلی لشکر کا سردار تھا اور یتؔر کے بیٹے عماؔسا پر جو یہُؔوداہ کی فَوج کا سردار تھا وار کِیا اور اُنکو تلوار سے قتل کِیا اور میرے باپ داؤُؔد کو معلُوم نہ تھا۔

۳۳

سو اُنکا خُون یُؔوآب کے سر پر اور اُسکی نسل کے سر پر ابد تک رہے گا لیکن داؤُؔد پر اور اُسکی نسل کے پر اور اُسکے گھر پر اور اُس کے تخت پر ابد تک خُداوند کی طرف سے سلامتی ہوگی۔

۳۴

تب یہؔویدع کا بیٹا بِناؔیاہ گیا اور اُس نے اُس پر وار کر کے اُسے قتل کِیا اور وہ بیابان کے بِیچ اپنے ہی گھر میں دفن ہُئوا۔

۳۵

اور بادشاہ نے یہؔویدع کے بیٹے بِناؔیاہ کو اُسکی جگہ لشکر پر مُقرّر کِیا اور صدُؔوق کاہِن کو بادشاہ نے ابیاؔتر کی جگہ رکھّا۔

۳۶

پھِر بادشاہ نے سِمعؔی کو بُلا بھیجا اور اُس سے کہا کہ یروشلؔیِم میں اپنے لئِے ایک گھر بنا لے اور وہِیں رہ اور وہاں سے کہِیں نہ جانا۔

۳۷

کیونکہ جِس دِن تُو باہر نِکلے گا اور نہرِ قدرُؔون کے پار جائے گا تو یقِین جان لے کہ تُو ضرُور مارا جائے گا اور تیرا خُون تیرے ہی سر پر ہوگا۔

۳۸

اور سِمعؔی نے بادشاہ سے کہا یہ بات اچھّی ہے۔ جَیسا میرے مالِک بادشاہ نے کہا ہے تیرا خادِم وَیسا ہی کرے گا۔ سو سِمعؔی بُہت دِنوں تک یروشلؔیِم میں رہا۔

۳۹

اور تِین برس کے آخِر میں اَیسا ہُئوا کہ سِمعؔی کے نَوکروں میں سے دو آدمی جاؔت کے بادشاہ اکِیؔس بِن معکاؔہ کے ہاں بھاگ گئے اور اُنہوں نے سِمعؔی کو بتایا کہ دیکھ تیرے نَوکر جاؔت میں ہیں۔

۴۰

سو سِمعؔی نے اُٹھ کر اپنے گدھے پر زِین کسا اور اپنے نَوکروں کی تلاش میں جاؔت کو اکِیؔس کے پاس گیا اور سِمعؔی جا کر اپنے نَوکروں کو جاؔت سے لے آیا۔

۴۱

اور یہ خبر سُلؔیمان کو مِلی کہ سِمعؔی یروشلؔیِم سے جاؔت کو گیا تھا اور واپس آ گیا ہے۔

۴۲

تب بادشاہ نے سِمعؔی کو بُلا بھیجا اور اُس سے کہا کیا مَیں نے تُجھے خُداوند کی قَسم نہ کھِلائی اور تُجھ کو بتا نہ دِیا کہ یقِین جان لے کہ جِس دِن تُو باہر نِکلا اور اِدھر اُدھر کہِیں گیا تو ضرُور مارا جائے گا؟ اور تُو نے مُجھ سے یہ کہا کہ جو بات مَیں نے سُنی وہ اچھّی ہے۔

۴۳

پس تُو نے خُداوند کی قَسم کو اور اُس حُکم کو جِسکی مَیں نے تُجھے تاکِید کی کیوں نہ مانا؟

۴۴

اور بادشاہ نے سِمعؔی سے یہ بھی کہا تُو اُس ساری شرارت کو جو تُو نے میرے باپ داؤُؔد سے کی جِس سے تیرا دِل واقِف ہے جانتا ہے۔ سو خُداوند تیری شرارت کو اُلٹا تیرے ہی سر پر لائے گا۔

۴۵

لیکن سُلؔیمان بادشاہ مُبارک ہو گا اور داؤُؔد کا تخت خُداوند کے حضُور ہمیشہ قائِم رہے گا۔

۴۶

اور بادشاہ نے یہؔویدع کے بیٹے بناؔیاہ کو حُکم دِیا۔ سو اُس نے باہر جا کر اُس پر اَیسا وار کِیا کہ وہ مَر گیا اور سلطنت سُلؔیمان کے ہاتھ میں مُستحکم ہو گئی۔

Views
Personal tools
Navigation
Toolbox