Editing
Mark 4 Urdu
Jump to navigation
Jump to search
Warning:
You are not logged in. Your IP address will be publicly visible if you make any edits. If you
log in
or
create an account
, your edits will be attributed to your username, along with other benefits.
Anti-spam check. Do
not
fill this in!
{{Books of the New Testament Urdu}} <big><div style="text-align: right;"><span style="font-family:Jameel Noori Nastaleeq;"> ۱ وہ پھِر جِھیل کے کنارے تعلِیم دینے لگا اور اُس کے پاس اَیسی بڑی بِھیڑ جمع ہو گئی کہ وہ جِھیل میں ایک کشتی میں جا بَیٹھا اور ساری بِھیڑ خشکی پر جِھیل کے کنارے رہی۔ ۲ تب وہ اُن کو تمثِیلوں میں بُہت سی باتیں سِکھانے لگا اور اپنی تعلِیم میں اُن سے کہا۔ ۳ -سُنو! دیکھو ایک بونے والا بِیج بونے نِکلا ۴ -اور بوتے وقت یُوں ہُئوا کہ کُچھ راہ کے کنارے گِرا اور ہوا کے پرنِدوں نے آ کر اُسے چُگ لِیا ۵ -اور کُچھ پتّھرِیلی زمِین پر گِرا جہاں اُسے بُہت مِٹّی نہ مِلی اور گہری مٹّی نہ ملِنے کے سبب سے جلد اُگ آیا ۶ -اور جب سُورج نِکلا تو جل گیا اور جڑ نہ ہونے کے سبب سے سُوکھ گیا ۷ -اور کچُھ جھاڑِیوں میں گِرا اور جھاڑِیوں نے بڑھ کر اُسے دبا لِیا اور وہ پَھل نہ لایا ۸ -اور کُچھ اچھّی زمِین پر گِرا اور وہ اُگا اور بڑھ کر پَھلا اور کوئی تِیس گُنا کوئی ساٹھ گُنا کوئی سَو گُنا پَھل لایا ۹ -پِھر اُس نے اُن سے کہا جِس کے سُننے کے کان ہوں وہ سُن لے ۱۰ -اور جب وہ اکیلا رہ گیا تو اُس کے ساتِھیوں نے اُن بارہ سمیت اُس سے اِن تمثِیلوں کی بابت پُوچھا ۱۱ -اُس نے اُن سے کہا کہ تُم کو خُدا کی بادشاہی کو جاننے کا بھید دِیا گیا ہے مگر اُن کے لئِے جو باہر ہیں سب باتیں تمثِیلوں میں ہوتی ہیں ۱۲ -تاکہ وہ دیکھتے ہُوئے دیکھیں اور معلُوم نہ کریں اور سُنتے ہُوئے سُنیں اور نہ سمجھیں۔ اَیسا نہ ہو کہ وہ رجُوع لائیں اور مُعافی پائیں ۱۳ -پِھر اُس نے اُن سے کہا کیا تُم یہ تمثِیل نہیں سمجھے؟ پِھر سب تمثِیلوں کو کیونکر سمجھو گے؟ ۱۴ -بونے والا کلام بوتا ہے ۱۵ -جو راہ کے کنارے ہیں جہاں کلام بویا جاتا ہے یہ وہ ہیں کہ جب اُنہوں نے سُنا تو شَیطان فی الفَور آ کر اُس کلام کو جو اُن کے دِلوں میں بویا گیا تھا اُٹھا لے جاتا ہے ۱۶ -اور اِسی طرح جو پتّھرِیلی زمِین میں بوئے گئے یہ وہ ہیں جو کلام کو سُنکر فی الفَور خُوشی سے قبُول کر لیتے ہیں ۱۷ -اور اپنے اندر جڑ نہیں رکھتے بلکہ چند روزہ ہیں- پِھر جب کلام کے سبب سے مُصیِبت یا ظُلم برپا ہوتا ہے تو فی الفَور ٹھوکر کھاتے ہیں ۱۸ -اور جو جھاڑِیوں میں بوئے گئے وہ اَور ہیں- یہ وہ ہیں جِنہوں نے کلام سُنا ۱۹ -اور دُنیا کی فِکر اور دَولت کا فریب اور اَور چِیزوں کا لالچ داخِل ہو کر کلام کو دبا دیتے ہیں اور وہ بے پَھل رہ جاتا ہے ۲۰ -اور جو اچھّی زمِین میں بوئے گئے یہ وہ ہیں جو کلام کو سُنتے اور قبُول کرتے اور پَھل لاتے ہیں- کوئی تِیس گُنا کوئی ساٹھ گُنا۔ کوئی سَو گُنا ۲۱ -اور اُس نے اُن سے کہا کیا چراغ اِس لِئے لاتے ہیں کہ پَیمانہ یا پلنگ کے نِیچے رکھّا جائے- کِیا اِس لِئے نہیں کہ چراغدان پر رکھّا جائے؟ ۲۲ -کیونکہ کوئی چِیز چُھپی نہیں مگر اِس لِئے کہ ظاہِر ہو جائے اور پوشِیدہ نہیں ہُوئی مگر اِس لِئے کہ ظہُور میں آئے ۲۳ -اگر کِسی کے سُننے کے کان ہوں تو سُن لے ۲۴ -پِھر اُس نے اُن سے کہا خبردار رہو کہ کیا سُنتے ہو۔ جِس پیَمانہ سے تُم ناپتے ہو اُسی سے تُمہارے لئِے ناپا جائے گا اور تُم جو سُنتے ہو زِیادہ دِیا جائے گا۔ ۲۵ -کیونکہ جسِکے پاس ہے اُسے دیِا جائے گا اور جسِکے پاس نہیں ہے اُس سے وہ بھی جو اُس کے پاس ہے لے لِیا جائے گا ۲۶ -اور اُس نے کہا خُدا کی بادشاہی اَیسی ہے جَیسے کوئی آدمی زمِین میں بِیج ڈالے ۲۷ -اور رات و دِن وہ سوئے، جاگے اور وہ بِیج اِس طرح اُگے اور بڑھے کہ وہ نہ جانے ۲۸ -اِس لئے کہ زمِین آپ سے آپ پَھل لاتی ہے، پہلے پتّی- پِھر بالیں- پِھر بالوں میں تیّار دانے ۲۹ -پِِھر جب اناج پک چُکا تو وہ فی الفَور درانتی لگاتا ہے کیونکہ کاٹنے کا وقت آ پُہنچا ۳۰ -پِھر اُس نے کہا ہم خُدا کی بادشاہی کو کِس سے تشِبیہ دیں اور کِس تمثِیل میں اُسے بیان کریں؟ ۳۱ -وہ رائی کے دانے کی مانِند ہے کہ جب زمِین میں بویا ہے تو زمِین کے سب بِیجوں سے چھوٹا ہوتا ہے ۳۲ -مگر جب بو دِیا گیا تو اُگ کر سب ترکارِیوں سے بڑا ہو جاتا ہے اور اَیسی بڑی ڈالِیاں نِکالتا ہے کہ ہوا کے پرِندے اُس کے سایہ میں بسیرا کر سکتے ہیں ۳۳ -اور وہ اُن کو اِس قِسم کی بُہت سی تمثِیلیں دے دے کر اُن کی سمجھ کے مُطابِق کلام سُناتا تھا ۳۴ -اور بے تمثِیل اُن سے کُچھ نہ کہتا تھا لیکن خَلوت میں اپنے خاص شاگِردوں سے سب باتوں کے معنی بیان کرتا تھا ۳۵ -اُسی دِن جب شام ہُوئی تو اُس نے اُن سے کہا آؤ پار چلیں ۳۶ -اور وہ بھِیڑ کو چھوڑ کر اُسے جِس حال میں وہ تھا کشتی پر ساتھ لے چلے. اور اُس کے ساتھ اَور چھوٹی کشتیاں بھی تھِیں۔ ۳۷ -تب بڑی آندھی چلی اور لہریں کشتی پر یہاں تک آئِیں کہ کشتی پانی سے بھری جاتی تھی ۳۸ -اور وہ خُود پِیھچے کی طرف تکیہ پر سو رہا تھا- پس اُنہوں نے اُسے جگا کر کہا اَے اُستاد کیا تُجھے فِکر نہیں کہ ہم ہلاک ہُوئے جاتے ہیں؟ ۳۹ -تب اُس نے اُٹھ کر ہوا کو ڈانٹا اور سمندر سے کہا ساکِت ہو! تھم جا! پس ہوا بند ہو گئی اور بڑا امن ہو گیا ۴۰ -پِھر اُن سے کہا تُم کیوں ڈرتے ہو؟ اب تک اِیمان نہیں رکھتے؟ ۴۱ -اور وہ نِہایت ڈر گئے اور آپس میں کہنے لگے یہ کَون ہے کہ ہوا اور سمندر بھی اُس کا حُکم مانتے ہیں؟ </span></div></big> {{Donate}}
Summary:
Please note that all contributions to Textus Receptus may be edited, altered, or removed by other contributors. If you do not want your writing to be edited mercilessly, then do not submit it here.
You are also promising us that you wrote this yourself, or copied it from a public domain or similar free resource (see
Textus Receptus:Copyrights
for details).
Do not submit copyrighted work without permission!
Cancel
Editing help
(opens in new window)
Pages included on this page:
Template:Books of the New Testament
(
view source
) (semi-protected)
Template:Books of the New Testament Urdu
(
edit
)
Template:Books of the Old Testament
(
view source
) (semi-protected)
Template:Donate
(
edit
)
Template:New Testament lectionaries
(
view source
) (semi-protected)
Template:New Testament minuscules
(
view source
) (semi-protected)
Template:New Testament papyri
(
edit
)
Template:New Testament uncials
(
edit
)
Template:Nowrap begin
(
edit
)
Template:Revelation 16.5
(
edit
)
Template:·w
(
edit
)
Navigation menu
Personal tools
Not logged in
Talk
Contributions
Create account
Log in
Namespaces
Page
Discussion
English
Views
Read
Edit
View history
More
Search
Navigation
Main page
Recent changes
Random page
Help about MediaWiki
Special pages
Tools
What links here
Related changes
Page information